غزہ بورڈ کیساتھ مکمل تعاون کرینگے شہباز شریف
وزیر اعظم سے یونائیٹڈ سٹیٹس انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن کے سی ای او بینجمن بلیک کی ملاقات‘ دونوں ممالک کے نجی اداروں کے درمیان مشترکہ منصوبوں کو متحرک کرنے میں ڈی ایف سی کے کردار کی تعریف
ڈی ایف سی پاکستان میں توانائی، کان کنی و معدنیات، زراعت اور آئی ٹی کے شعبوں میں منصوبوں کے لئے اپنی فنانسنگ میں اضافہ کرے:واشنگٹن میں ملاقات کے دوران گفتگو
واشنگٹن (آن لا ئن‘آئی این پی) وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے واشنگٹن میں بورڈ آف پیس لیڈرز کے اجلاس کے دوران ملاقات کی۔ اس موقع پر نائب وزیرِ اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار بھی وزیرِ اعظم کے ہمراہ موجود تھے۔وزیرِ اعظم نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر خارجہ روبیو کو بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد دی اور کہا کہ پاکستان غزہ امن منصوبے کے نفاذ کے لیے بورڈ آف پیس کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور امریکہ کے اسٹریٹجک تعلقات کی اہمیت پر زور دیا اور صدر ٹرمپ کی قیادت میں شراکت داری کے فروغ اور مثبت سمت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ملاقات میں دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور دہشت گردی کے خلاف باہمی تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی ماحول میں مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے پاکستان اور امریکہ کے درمیان اعلیٰ سطحی روابط کے تسلسل کی اہمیت پر زور دیا۔ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے مختلف عالمی امور پر اپنی مشترکہ کوششوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنے کی عزم کا اعادہ کیا، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید استحکام اور ترقی کی توقعات پیداہوئیں۔دریں اثناء وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے یونائیٹڈ اسٹیٹس انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن (ڈی ایف سی) کے سی ای او بینجمن بلیک نے واشنگٹن میں ملاقات کی۔ ان کے ساتھ ڈی ایف سی کے سرمایہ کاری کے سربراہ کونر کولمین اور ایجنسی کی سینئر قیادت بھی موجود تھی۔وزیر اعظم نے پاکستان اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی معاشی شراکت داری کے فروغ اور دونوں ممالک کے نجی اداروں کے درمیان مشترکہ منصوبوں کو متحرک کرنے میں ڈی ایف سی کے کلیدی کردار کی تعریف کی، جو کہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیلئے ضروری ہے۔پاکستان کی معیشت کو بہتر کرنے والے میکرو اکنامک بنیادی اصولوں، ساختی اصلاحات اور سرمایہ کاری کے لیے پرکشش ماحول کے لیے حکومت کے عزم کو اجاگر کرتے ہوئے، وزیراعظم نے ڈی ایف سی کو دعوت دی کہ وہ توانائی، کان کنی و معدنیات، زراعت اور آئی ٹی کے شعبوں میں منصوبوں کے لیے اپنی فنانسنگ میں اضافہ کرے۔انہوں نے ڈی ایف سی کے 1 ارب ڈالر سے زیادہ کے پورٹ فولیو کو سراہا اور دونوں ممالک کی اقتصادی ترجیحات کے درمیان ہم آہنگی پر روشنی ڈالی جو کاروباری تعاون کے فروغ کے لیے باہمی طور پر فائدہ مند مواقع ہیں۔وزیراعظم نے ڈی ایف سی کو اپریل میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والی آئندہ معدنیات کانفرنس میں شرکت کی بھی دعوت دی۔بینجمن بلیک نے وزیراعظم کو ڈی ایف سی کے اسٹریٹجک اقدامات، ترجیحات اور پاکستان میں متوقع پراجیکٹس کے بارے میں آگاہ کیا اور پاکستان میں ڈی ایف سی کی سرمایہ کاری میں اضافے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔