وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے پشاور کے تاریخی ارباب نیاز کرکٹ اسٹیڈیم کا نام تبدیل کرکے ’’عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم‘‘ رکھنے کی منظوری دے دی ہے، جسے صوبائی کابینہ جمعہ کے اجلاس میں حتمی شکل دے گی۔
تاہم، اس فیصلے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، خاص طور پر ارباب نیاز کے خاندان اور دیگر سیاسی و سماجی حلقوں کی طرف سے۔ارباب نیاز کے بیٹے ارباب شہزاد، جو سابق چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا اور عمران خان کے مشیر بھی رہ چکے ہیں، نے اس فیصلے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام محض عمران خان کو خوش کرنے کی کوشش ہے اور صوبائی حکومت کو اسے واپس لینا چاہیے۔ارباب شہزاد کے مطابق، ارباب نیاز کی خدمات کے اعتراف میں پشاور میونسپل کمیٹی نے ان کی وفات کے بعد اس اسٹیڈیم کا نام رکھا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان ہمیشہ زندہ شخصیات کے نام پر سڑکوں یا عمارتوں کے نام رکھنے کے خلاف رہے ہیں، اور 2013 میں ان کی ہدایات پر صوبائی کابینہ نے اس حوالے سے ایک اصولی فیصلہ بھی کیا تھا۔
دوسری جانب، اطلاعات ہیں کہ اس تنازعے کے دوران پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے پشاور میں ہونے والے میچز بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق، بعض فرنچائزز نے سیکیورٹی خدشات کے باعث پشاور میں کھیلنے سے انکار کر دیا ہے، اگرچہ اس حوالے سے کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔یہ معاملہ سیاسی، تاریخی اور سماجی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دے چکا ہے۔ ارباب نیاز کے خاندان کی مخالفت اور عمران خان کے ماضی کے مؤقف کے تناظر میں، یہ دیکھنا ہوگا کہ صوبائی حکومت اس تنازعے کو کیسے حل کرتی ہے اور آیا اسٹیڈیم کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا جائے گا یا نہیں۔