واشنگٹن (نیٹ نیوز) دنیا کی سب سے بڑی بھڑ، جسے اس کے خطرناک ڈنگ اور شہد کی مکھیوں کے چھتوں کو چند گھنٹوں میں تباہ کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے 'قاتل بھڑ' کہا جاتا ہے، کو امریکہ سے ختم کر دیا گیا ہے۔ امریکہ اور واشنگٹن کی زراعت کے محکموں نے اس کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ 2021 کے بعد سے ریاست واشنگٹن میں کسی بھی شمالی دیو ہیکل بھڑ (Northern Giant Hornet) کی موجودگی نہیں دیکھی گئی۔سی این این کے مطابق قاتل بھڑ کے خلاف کامیابی میں شہریوں کا کردار بھی اہم رہا جنہوں نے اپنے علاقوں میں جال نصب کیے اور کسی بھی مشکوک بھڑ کی اطلاع دی۔ محققین نے ایک زندہ بھڑ کو پکڑ کر اس پر ایک چھوٹا ریڈیو ٹریکنگ ٹیگ لگایا اور جنگل میں اس کے پیچھے چلتے ہوئے ایک گھونسلہ دریافت کیا۔ یہ گھونسلہ ایک درخت میں پایا گیا اور اسے اس وقت تباہ کر دیا گیا جب کئی ملکہ بھڑیں اپنے گھونسلے سے نکلنے والی تھیں۔ریاست واشنگٹن کے محکمہ زراعت کے پیسٹ پروگرام مینیجر، سویون اسپچائیگر نے کہا "میں ایک کیڑوں کے ماہر کے طور پر کہہ سکتا ہوں کہ انسانوں کا کیڑوں کے خلاف جیتنا ایک نایاب دن ہے۔"قاتل بھڑ جسے پہلے ایشیائی دیو ہیکل بھڑ کہا جاتا تھا، دو انچ تک لمبی ہو سکتی ہے۔ سنہ 2013 میں چین میں اس کے حملے کے دوران 42 افراد ہلاک اور 1675 زخمی ہوئے تھے۔ امریکہ میں ہر سال شہد کی مکھیوں اور بھڑوں کے ڈنگ سے تقریباً 72 افراد کی موت ہوتی ہے۔یہ بھڑ سب سے پہلے اگست 2019 میں کینیڈا کے صوبے ریاست برٹش کولمبیا میں دیکھی گئی اور دسمبر 2019 میں واشنگٹن ریاست میں اس کی تصدیق ہوئی۔ ماہرین کے مطابق یہ بھڑ پودوں کے گملوں یا شپنگ کنٹینرز کے ذریعے شمالی امریکہ پہنچی۔ واشنگٹن میں 2020 اور 2021 کے دوران چار گھونسلے دریافت کیے گئے جنہیں تباہ کر دیا گیا۔ حکام نے خاص طور پر چین سے منگوائے گئے مضبوط حفاظتی سوٹ کا استعمال کیا کیونکہ یہ بھڑ عام حفاظتی سوٹ کو چیر سکتی ہیں اور کئی بار ڈنگ مار سکتی ہے۔