اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے گولان کی پہاڑیوں پر امن فوج کے قیام کے حوالے سے اپنی موجودہ قرارداد میں چھ ماہ کی توسیع کر دی ہے۔
اس قرارداد کو روس اور امریکا کی مشترکہ پیش کش پر سلامتی کونسل کے تمام 15 ارکان نے متفقہ طور پر منظور کیا ہے۔یہ فیصلہ 1974 میں اسرائیل اور شام کے درمیان ہونے والے معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس میں دونوں ممالک نے اپنی افواج کو گولان کی پہاڑیوں سے واپس بلالیا تھا اور ایک جنگ بندی کی شرائط طے کی تھیں۔ اس کے بعد سے اقوامِ متحدہ نے گولان کی پہاڑیوں پر "ڈِس انگیجمنٹ آبزرور فورس" (یو این ڈی او ایف) تعینات کی تھی تاکہ اسرائیلی اور شامی افواج کے درمیان جنگ بندی کو برقرار رکھا جا سکے۔
سلامتی کونسل نے اس قرارداد میں اسرائیل اور شام سے مطالبہ کیا کہ وہ 1974 کے معاہدے کی مکمل تعمیل کریں اور علاقے میں مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ اقوامِ متحدہ کی فورس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ گولان کی پہاڑیوں میں موجود اسرائیلی اور شامی افواج کے درمیان امن قائم رکھا جائے اور اس علاقے کی نگرانی کی جائے تاکہ کسی قسم کی فوجی کارروائی سے بچا جا سکے۔
اس قرارداد کی توسیع گولان کی پہاڑیوں میں اسرائیلی اور شامی افواج کے مابین متوازن تعلقات کو برقرار رکھنے کے لیے ایک اہم قدم ہے، جو خطے میں امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔