قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے مختلف نوعیت کے مقدمات کو نمٹانے کے لیے واضح ٹائم فریم کی منظوری دے دی ہے۔
اجلاس چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹس اور اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے شرکت کی۔اعلامیے کے مطابق کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ ایک جامع میکانزم تیار کیا جائے تاکہ زیر حراست افراد کو 24 گھنٹوں کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جا سکے۔ اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ یہ میکانزم اگلے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔کمیٹی نے عدالتی امور میں بیرونی مداخلت سے متعلق ایس او پیز کا بھی جائزہ لیا اور فیصلہ کیا کہ بیرونی مداخلت کی رپورٹ 24 گھنٹوں میں، اور اس پر کارروائی 14 دن میں کی جائے۔ شکایت کنندہ جج کے وقار کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور ہائی کورٹس ایس او پیز نوٹیفائی کرکے شیئر کریں۔
مختلف نوعیت کے مقدمات کے لیے مقرر کی گئی مدت درج ذیل ہے:
جائیداد کے تنازعات: 24 ماہ
وراثتی جائیداد کے تنازعات: 12 ماہ
پبلک ریونیو اور رقوم کے تنازعات: 12 ماہ
کرایہ داری اور فیملی دعوے کے مقدمات: 6 ماہ
بینکنگ کورٹ ڈگری کے مقدمات: 12 ماہ
کم عمر افراد کے فوج داری کیسز: 6 ماہ
سات سال تک سزایافتہ فوج داری ٹرائل: 12 ماہ
سات سال سے زائد عمر کے سزا یافتہ کیسز: 18 ماہ
قتل کیس کے فوج داری ٹرائل: 24 ماہ
لیبر کیسز: 6 ماہ
اعلامیے میں کمیٹی نے تمام ہائی کورٹس کی کاوشوں کو سراہا اور یکساں مدت مقرر کرنے کی منظوری دی۔