محمدفاروق سپرا
کراچی میں ڈاکوؤں نے گن پوائنٹ پر قصاب کوروک کر قیمہ چھین لیا۔ قصاب کی جیب میں ہزاروں روپے،قیمتی موبائل اور نئی موٹرسائیکل بھی تھی مگر ڈاکوؤں نے قیمہ چھینا اور چلتے بنے۔ قصاب اس بات پرخوش تھا کہ چلوجان توبچی مگراس سے زیادہ حیرت زدہ بھی تھا کہ ڈاکوؤں نے موبائل کوہاتھ لگایا نہ اس کی جیت میں رکھی رقم کے بارے میں پوچھا اورتواورقیمتی موبائل بھی نہ چھینا۔ وہ دل ہی دل میں دعاگوبھی ہواکہ یااللہ اگرلوٹنے والے جرائم پیشہ نہیں تھے تو ان کی ضرورتیں پوری فرما۔
اس پہلے تو گن پوائنٹ پرلوٹنے والے سب سے پہلے موبائل،پھرنقدی اور آخرمیں موٹرسائیکل یاگاڑی چھین کرلے جاتے ہیں۔ وقت بدلا،مہنگائی بڑھی امیر غریب ہوا اورغریب بھوکوں مرنے لگاتو جرائم کی نوعیت بھی تبدیل ہوئی جس کی ایک مثال کراچی میں نظرا?ئی جب ڈاکوؤں کی ترجیح کچھ بھی اورنہیں بلکہ 10کلوقیمہ نکلی۔ یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے قصاب کے پاؤں پکڑ کر قیمے کی خیرات طلب نہیں کی بلکہ اس کی کنپٹی پرپستول رکھ کر قیمے کاتقاضاکیا۔ کیا پتہ ڈاکوؤں کے لبادے میں غربت زدہ شہری بھوک اوربے روز گاری سے تنگ آکر ڈکیتی کاآپشن اختیارکرنے پرمجبورہوگئے ہوں۔
اس بات کی تائیدبڑے بڑے دانشوروں نے بھی کی ہے کہ غربت انسان کو کفرکی حدتک لے جاسکتی ہے۔ خاص طورپروہ لوگ زیادہ قابل رحم ہیں جوغربت کی وجہ سے جرائم کاراستہ اختیارکرنے پرمجبورہوجاتے ہیں۔ یہاں قصورکے علاقے کھڈیاں کے قریب واقع گاؤں اولکھ ہتھاڑ کاذکربھی ضروری ہے جہاں چورواردات کے دوران نقدی کے ساتھ گھی،آئل اورڈرائی فروٹ بھی لے گئے۔ ایسے چوروں کوچورکہنے کودل نہیں مانتا۔وہ یقینی طورپرچوروں کے روپ میں معاشرے کاکوئی پریشان حال طبقہ کے لوگ تھے جوغربت کی وجہ سے واردات پرمجبورہوئے کیونکہ ان کی ترجیحات بتارہی تھیں کہ وہ پیشہ ورمجرم نہیں۔
راقم کے محلے دار گلستان خان تندور کاکاروبارکرتے ہیں،ایک رات ان کی دکان پرواردات ہوگئی۔ صبح پارک جاتے ہوئے ان سے آمناسامناہوا اور ان کے چہرے پرہوائیاں اْڑنے کاسبب پوچھا توعلم ہواکہ ان کی دکان پرچوری کی واردات ہوئی ہے۔ چورکچھ روپے لے گئے،ایل سی ڈی اتارلی مگر پھران کی بڑی ترجیح آٹاتھا،چوروں کو آٹے کی بوریوں کے سامنے سب کچھ ہیچ نظرآیا۔ وہ آٹے کی کچھ بوریاں،حتیٰ کہ گوندھا ہواآٹابھی لے کرچلتے بنے۔ اپنی حیثیت کے مطابق گلستان کو تسلی دی اور تھانے جاکرایف آئی آر درج کرانے کامشورہ دیا۔اپنی طرف سے چورگلستان کے ساتھ ہاتھ توکرگئے مگران کی ترجیح پھرسوچنے پرمجبورکرگئی،وہ چورتھے یاچوری پرمجبورتھے۔ مال مسروقہ جرم نہیں کسی اورہی مجبوری کی کہانی سنارہاتھا۔
کہنے والے نے کہا اور لکھنے والے نے لکھا کہ معاشرے جرائم کے بڑھنے کی دوایسی وجوہات ہیں جن پر قابوپانا بہت ہی ضروری ہے۔ایک وجہ غربت اور دوسری وجہ جہالت ہے۔غربت اور جہالت کا ا?پس میں بہت گہرا تعلق ہے۔جب تک یہ دو چیزیں ہمارے معاشرے میں ختم نہیں ہونگی یا ان پر قابو نہیں پایا جاسکتا تب تک ہمارے معاشرے سے جرائم کم نہیں ہوسکتا۔جہاں جہالت ہوتی ہے وہاں غربت ہوتی
ہے۔ہمارے معاشرے میں جرائم کی اور بھی کئی ساری وجوہات ہیں لیکن غربت ان میں سرفہرست ہے۔
کچھ چیزیں انسان کی بنیادی ضروریات میں شامل ہوتی ہیں اور جن بدنصیبوں کو یہ ضروریات میسر نہیں ہوتیں وہ مجبورا ان کو پورا کرنے کے لیے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔اگر آپ تھانہ، کچہری، ہسپتالوں اور جیلوں وغیرہ کا دورہ کریں تو آپ کو 60 فیصد غریب لوگ ملیں گے،اکثر غریب لوگ اپنے پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیے جرائم کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔یا پھر وہ چوریاں کرتے ہیں یا پھر دوسرے لوگوں سے چھینا چھپٹی کرتے ہیں۔اور اسی چھینا چھپٹی کی کوشش میں جیل پہنچ جاتے ہیں۔ دوسری بڑی وجہ تن ڈھاپنا ہے جن غریبوں کے پاس اپنا تن ڈھانپنے کے لیے کپڑے نہیں ہوتے وہ بھی جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔جرائم کی تیسری وجہ علاج معالجہ ہے جو غریب بیمار ہوجاتے ہیں یا ان کے گھر کے افراد میں کوئی بیمار ہوجاتاہے اور دوائی خریدنے کے لیے پیسے نہیں ہوتے تو وہ مجبورا جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔
ان معروضی حالات میں کراچی کے قیمہ چھیننے،قصورمیں گھی،آئل اورڈرائی فروٹ چوری کرنے اور لاہورکے گلستان کے تندورسے آٹاچوری کرنے والے عناصر کی جرائم کے راستے پرچلنے کی وجہ تک پہنچا جاسکتاہے۔ لگتاہے غربت اورجہالت نے ان ڈاکہ زنی اور چوراچکاری کاراستہ دکھایاجس پروہ چل پڑے۔ غریب لوگوں کی اکثریت ان پڑھ ہوتی ہے۔وہ قانون اور قانونی پچیدگیوں سے ناواقف ہوتے ہیں۔تو جب امیر ا?دمی اس کا حق مارتا ہے تو وہ جرم کا ارتکاب کربیٹھتا ہے۔تو اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا تو وہ جیل پہنچ کر مناسب وسائل نہ ہونے پر سالہاسال جیل میں رہتاہے۔اور اسی دوران اس کی ملاقات پیشہ ور مجرموں سے ہوتی ہے تو یوں وہ ا?زاد ہونے کے بعد باقاعدہ طورپر کسی بڑے گینگ کا ممبر بن جاتا ہے۔اگر معاشرے سے جرائم کا خاتمہ مقصود ہے تو سب سے پہلے غربت کا خاتمہ کرناہوگا۔ہم جانتے ہیں کہ غربت عام طور پر ناانصافی ، استحصال ، اقرباپروری اور غیرمناسب معاشی پالیسیوں کی وجہ ہوتی ہے۔حکومت وقت کو چاہیے کہ ملک سے غربت کا خاتمہ کرنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات کریں۔ کیونکہ غربت کا خاتمہ ہوگا تو لوگ تعلیم حاصل کریں گے۔تعلیم سے لوگوں کے اندر معاشی شعور پیدا ہوگا تب ہی جرائم کی شرح کم ہوگی اور امتیازی پالیسیوں کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔جب تک معاشرے سے غربت،جہالت اور بدعنوانی کا خاتمہ نہیں ہوتا اس وقت تک جرائم بڑھتے جائیں گے۔
حالیہ مہنگائی نے عام آدمی کو بْری طرح متاثر کیا ہے اور ایسے اشارات مل رہے ہیں کہ ابھی لوئر مڈل کلاس اور غریب کی آمدنی کی سطح جوں کی توں رہے گی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اشرافیہ کے مقابلے میں غریب طبقہ کی ضروریات میں بڑا فرق ہے لیکن مہنگائی کی دن دونی رات چوگنی بڑھتی ہوئی شرح نے معاشرے میں عام آدمی اور سوسائٹی کے دیگر تمام طبقوں کا جینا حرام کر دیا ہے۔ بدقسمتی سے سال رواں کے غربت کے تازہ ترین تخمینوں کے مطابق پاکستان کی 34 فیصد آبادی خطِ قومی غربت کے نیچے رہ رہی ہے۔ ان میں 31 فیصد کا تعلق دیہات اور 13 فیصد کا تعلق شہری علاقوں سے ہے۔ مزید برآں ہماری 39 فیصد آبادی کثیر الجہتی غربت انڈیکس کی روسے غریب ہے۔ ہمیں ایک ایسی صورتحال کی طرف دھکیلا جا رہا ہے کہ یہاں مڈل کلاس کو بھی غربت کے چنگل میں پھنسنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔اس صورتحال میں عوام کاجرائم کی طرف راغب ہوجان کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ امارت اور غربت میں گہری اورچوڑی ہوتی خلیج کوکم کیاجائے،بے روز گاری اور غربت کے خاتمے کے اقدامات کیے جائیں۔