اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن کو با مقصد مذاکرات کی دعوت دے دی، انہوں نے کہا ملک کی معاشی ترقی اور جمہوریت کی مضبوطی کیلئے معاملات کو بیٹھ کر طے کر نا ہو گا ،جلدتعمیری بات چیت کا انحصار اپوزیشن پر ہے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے ہمیشہ اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے،میں ایک بار پھر اس فورم سے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دیتا ہوں تاکہ پاکستان کی معاشی ترقی کو آگے بڑھایا جا سکے اور جمہوریت کو مضبوط بنایا جا سکے، آئیں بیٹھ کر بات چیت کریں،انہوں نے کہا تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، اب اپوزیشن پر منحصر ہے کہ وہ کتنی جلدی تعمیری مذاکرات کے لیے تیار ہوتی ہے اور ملک کے لئے کتنی سنجیدہ ہے۔وزیراعظم نے کابینہ اجلاس سے خطاب میں ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 32 روپے فی لٹر کمی کا بھی ذکر کیا اور اسے وزارت پٹرولیم کی کوششوں کا نتیجہ قرار دیا۔انھوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال اور خطے میں کشیدگی کے باعث ایندھن کی فراہمی متاثر ہوئی تھی، خطے کے کئی ممالک میں ریفائنریز اور گیس پلانٹ بند ہیں، تاہم حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کیے۔شہباز شریف نے کہا کہ ایران سے متعلق جنگی صورتحال کے آغاز پر وفاقی حکومت نے عوام کو سہولت دینے کیلئے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے بجٹ میں 128 ارب روپے کی کمی کی تھی