انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ میں پاکستان کی ناقص فیلڈنگ نے ٹیم کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ہیڈنگلے میں کھیلے جا رہے پہلے ٹیسٹ میچ کے دوران، میدان میں کئی ایسے مواقع دیکھنے میں آئے جہاں معمولی کوشش سے رنز روکے جا سکتے تھے مگر پاکستانی فیلڈرز نے گیند روکنے کے لیے ڈائیو لگانے یا بھرپور کوشش کرنے سے گریز کیا۔ایک موقع پر، ڈین لارنس کو رن آؤٹ کیا جا سکتا تھا، مگر کپتان سلمان علی آغا نے بروقت گیند اسٹمپس پر مارنے کے بجائے امپائر کے فیصلے کا انتظار کیا، جس سے رن آؤٹ کا موقع ضائع ہو گیا۔ بعد میں، ان کی گھبراہٹ میں کی گئی تھرو محمد رضوان سے جا ٹکرائی، جو اس وقت وکٹ کے سامنے کھڑے ہو کر امپائر سے اپیل کر رہے تھے۔اسی طرح، محمد عباس نے روٹ کے شاٹ کو روکنے میں سستی کا مظاہرہ کیا، جبکہ دیگر فیلڈرز بھی آسان گیندوں پر غیر ضروری غلطیاں کرتے نظر آئے۔
پاکستانی کھلاڑی عثمان علی نے بھی اعتراف کیا کہ فیلڈنگ میں خامیاں موجود ہیں اور ٹیم کو زیادہ محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ماہرین کے مطابق، پاکستان کی فیلڈنگ کا معیار مسلسل گر رہا ہے، اور فیلڈنگ کوچ شین میک ڈرموٹ کی رخصتی کے بعد بھی اس شعبے میں بہتری کے لیے مؤثر اقدامات نظر نہیں آ رہے۔یہ ناقص فیلڈنگ پاکستانی ٹیم کی کارکردگی پر منفی اثر ڈال رہی ہے اور آئندہ مقابلوں میں بہتر نتائج کے لیے فیلڈنگ کے معیار کو بلند کرنے کی ضرورت ہے۔