پاکستان شام کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کی حمایت جاری رکھے گا،پاکستان اور شام کے تاریخی تعلقات کو عملی تعاون میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے:وزیراعظم

قومی اسمبلی میں رہنمائوں سے ملاقاتیں اپوزیشن  سے مذاکرات کیلئے تیارہیں  شہبازشریف
وزیراعظم نے سب سے پہلے  پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو  اور سابق وزیراعظم راجہ  پرویز اشرف سے ملاقات کی‘وزیراعظم محمود خان اچکزئی کے پاس گئے، اپوزیشن رہنماؤں اسد قیصر، بیرسٹر گوہر اور عامر ڈوگر سے بھی ملاقات کی
 اب اپوزیشن ارکان پر منحصر ہے  وہ کب تک مذاکرات کی میز پر آتے ہیں، ہم نے ہمیشہ مکالمے کو ہی ترجیح دی ‘ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 32روپے کی کمی خوش آئند ، وزارت پیٹرولیم کو خراج تحسین پیش کرتاہوں
عوام کو ریلیف دینے کیلئے کوشش کررہے ہیں‘خطے کے کئی ممالک میں ریفائنریزاورگیس پلانٹس بند ہیں،پاکستان توانائی درآمدکرنے والاپہلا ملک ہے ،آئندہ دنوں تک صورتحال مزید بہتر ہوجائے گی: کابینہ اجلاس میں اظہار خیال 
اسلام آباد(آن لائن)وزیراعظم شہباز شریف کی قومی اسمبلی آمد کے موقع پر ایوان کا ماحول سیاسی ملاقاتوں کا مرکز بن گیا۔ وزیراعظم نے اجلاس میں اپنی نشست سنبھالنے سے قبل حکومتی اور اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سمیت پی ٹی آئی رہنماں سے ملاقات کو بھی خصوصی اہمیت حاصل رہی۔وزیراعظم شہباز شریف قومی اسمبلی کے اجلاس میں پہنچے تو سب سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف سے ملاقات کی۔بعد ازاں وزیراعظم سیدھے قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کے پاس گئے اور ان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے اپوزیشن رہنماؤں اسد قیصر، بیرسٹر گوہر اور عامر ڈوگر سے بھی ملاقات کی۔ملاقاتوں کے بعد وزیراعظم شہباز شریف اپنی نشست پر بیٹھ گئے، جہاں مسلم لیگ(ن)کے اراکین قومی اسمبلی اور وفاقی وزراء باری باری وزیراعظم سے ملاقات کے لیے ان کے پاس آتے رہے۔دریں اثناء وزیراعظم شہبازشریف نے ایک بار پھراپوزیشن کومذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن اراکین سے مذاکرات کے لئے تیارہیں،تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، جوبھی مسائل ہیں ،مذاکرات سے حل کریں گے۔جمعرات کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا  قومی اسمبلی اور کابینہ کے اجلاسوں میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ ہم بات چیت کے لئے تیار ہیں، اپوزیشن معاملات کو بات چیت سے حل کرے تاکہ ملکی معاشی ترقی اور جمہوریت کو تقویت دے سکیں۔وزیراعظم نے کہا کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، اب اپوزیشن پر منحصر ہے کہ وہ کب تک مذاکرات کی میز پر آتے ہیں، ہم نے ہمیشہ مکالمے کو ہی ترجیح دی۔ اپوزیشن کوکابینہ فورم سے پھر بات چیت کی دعوت دیتاہوں،اپوزیشن سے بامقصد بات چیت کریں گے۔ اپوزیشن پر منحصر ہے کہ وہ کب مذاکرات کی میز پر آتے ہیں۔وزیراعظم نے ڈیزل کی قیمت کم ہونے پروزارت پیٹرولیم کوخراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 32روپے کی کمی خوش آئندہے،پوری ٹیم کی کاوشوں سے ڈیزل کی قیمت کم ہوئی،معاشی استحکام کے لئے اقدامات کئے ہیں۔عوام کو ریلیف دینے کیلئے کوشش کررہے ہیں، وزارت پیٹرولیم کی کاوشیں قابل تحسین ہیں ۔انہوں نے کہا خطے کے کئی ممالک میں ریفائنریزاورگیس پلانٹس بند ہیں،پاکستان توانائی درآمدکرنے والاپہلا ملک ہے ،آئندہ دنوں تک صورتحال مزید بہتر ہوجائے گی‘علاوہ ازیں شام کے وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور شام کے درمیان تاریخی و برادرانہ تعلقات، دوطرفہ تعاون کے فروغ، شام کی سیاسی صورتحال، تعمیرِ نو اور علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے شامی وزیر خارجہ اور ان کے وفد کا خیرمقدم کیا اور شام کے صدر احمد الشرع کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے صدر احمد الشرع سے اپنی حالیہ ملاقاتوں کا بھی ذکر کیا۔ملاقات کے دوران وزیراعظم نے  شام کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت  کا اعادہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان شام کے اتحاد اور خودمختاری کے مؤقف کی حمایت جاری رکھے گا۔