گوادر: رقابت کے سائے

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
بین الاقوامی سیاست کاچہرہ اکثریک رنگ نہیں ہوتا۔کبھی دوممالک دفاعی شریک ہوتے ہوئے اقتصادی حریف ہوتے ہیں،کبھی اقتصادی شراکت دارہوتے ہوئے کسی تیسرے خطے میں ایک دوسرے کے مفادات سے متصادم کھڑے ہوتے ہیں۔یہی تضادپاکستان اورمتحدہ عرب امارات کے معاملے میں دستاویزنمایاں کرتی ہے۔ایک جانب اماراتی کردار کے بارے میں بلوچستان سے متعلق سنگین الزامات موجودہیں ،دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے پاکستان اوربالخصوص بلوچستان میں سرکاری سطح پرتعاون اورسرمایہ کاری کی پالیسی بھی جاری رکھی۔ فراہم کردہ موادکے مطابق2018میں گوادرمیں ایک بڑے ڈی سیلینیشن پلانٹ کیلئے حمایت کاوعدہ کیاگیا،جبکہ2025میں شمسی توانائی اوردیگرتوانائی منصوبوں پربلوچستان حکومت سے بات چیت ہوئی۔پاکستانی حکام نے بعض مواقع پراماراتی مداخلت سے متعلق الزامات کوجھوٹا پروپیگنڈابھی قراردیا۔
یہ صورتِ حال ایک نہایت اہم اصول یاددلاتی ہے:ریاستوں کے تعلقات خانوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔تجارت الگ،سلامتی الگ،توانائی الگ، علاقائی رقابت الگ۔ایک شعبے میں تعاون دوسرے شعبے میں اختلاف کوناممکن نہیں بناتا۔لیکن اسی اصول کاالٹا استعمال بھی نہیں ہونا چاہیے۔اگرسرمایہ کاری کسی الزام کوخودبخودردنہیں کرتی توالزام بھی سرمایہ کاری کوخفیہ سازش کانقاب ثابت نہیں کرتا۔اس طرح، متحدہ عرب امارات کی ظاہری سرمایہ کاری اس پورے معاملے میں اعتبارکافرق پیداکرتی ہے۔چنانچہ امارات کی علانیہ سرمایہ کاری اس پورے قضیے میں ایک اعتبارکافرق پیداکرتی ہے۔اگرریاست براہِ راست اورمسلسل گوادر کوناکام بنانے کی پالیسی پرکاربندہوتی تواسی مقام پرترقیاتی منصوبوں میں شرکت بظاہرمتناقض دکھائی دیتی ہے۔یہی تضاد قطعی فیصلے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک ہے۔
اس بحث کاشاید سب سے زیادہ تلخ باب یہ ہے کہ یہاں انگلی باہرسے مڑکراندر کی طرف اٹھتی ہے۔دستاویز کے مطابق 2024 ک ے ’’دبئی پراپرٹی لیکس‘‘میں دبئی کی23ہزار سے زیادہ جائیدادوں کوپاکستانی شہریوں سے منسلک کیاگیا،جن میں سیاسی خاندانوں،سابق حکومتی شخصیات،پارلیمانی وکابینہ اراکین،سابق فوجی افسران اوراعلی سرکاری شخصیات کے نام یاخاندانی روابط شامل ہونے کادعوی کیاگیا۔ دستاویزاس صورتِ حال کوپاکستان کی حکمران اشرافیہ کیلئے امارات کے ساتھ تعلقات میں ایک ممکنہ ٹکراؤکے طورپردیکھتی ہے۔ یہاں بنیادی قومی سوال یہ نہیں کہ کسی پاکستانی کادبئی میں قانونی اثاثہ کیوں ہے۔بیرونِ ملک قانونی سرمایہ کاری بذاتِ خودجرم یاغداری نہیں۔اصل سوال شفافیت،ملکیت کے قانونی ذرائع او اس امرکاہے کہ کیاذاتی معاشی مفادات قومی سلامتی کے فیصلوں کومتاثرکرتے ہیں؟
یہی وہ باریک لکیرہے جہاں شخصی مفاداورریاستی مفادایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔اگرقومی فیصلہ سازوں کے اثاثے،کاروباریا معاشی تحفظ کسی دوسرے ملک کے مالی نظام سے غیرمعمولی طورپر جڑے ہوں تومحض حقیقی بدعنوانی ہی مسئلہ نہیں رہتی؛ممکنہ مفادات کے تصادم کاتاثربھی ریاستی اعتمادکو مجروح کرسکتاہے۔
دستاویزاپریل2026میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے3.5ارب ڈالرکے قرض کی قبل ازوقت واپسی کے مطالبے کومعاشی دباؤکے تناظرمیں پیش کرتی ہے،اورپاکستانی شیعہ کارکنوں کی امارات سے بڑے پیمانے پرملک بدری کاذکربھی کرتی ہے۔انہی عوامل کو رپورٹ میں پاکستان کی مبینہ’’اسٹریٹجک فالج‘‘سے جوڑاگیا ہے۔یہاں ریاست کیلئے سبق نہایت واضح ہے:جوملک معاشی طورپرضرورت مند،مالی طورپرمنحصراوراشرافیائی مفادات میں بیرونی مراکز سے بندھاہو،اس کی سفارت کاری کے پرکبھی کبھی نظرنہ آنے والی زنجیریں باندھ دی جاتی ہیں۔قومی خودمختاری محض سرحد کی حفاظت کانام نہیں؛فیصلہ سازی کی آزادی بھی خودمختاری ہی کاحصہ ہے۔
اس پورے مسئلے کاسب سے قیمتی حصہ شایدیہی نکتہ ہے،کیونکہ یہاں دستاویزخوداپنے دعووں کی درجہ بندی کرتی ہے۔رپورٹ 2008کے آئی ایس آئی الزام،دبئی اورگوادرکی ممکنہ تجارتی رقابت،2019میں ایک مبینہ بی ایل اے سہولت کارکی شارجہ میں گرفتاری،اور پاکستانی اشرافیہ کے وسیع اماراتی اثاثوں کوقابلِ دستاویزامورمیں شمارکرتی ہے۔دوسری طرف2004سے2026تک یواے ای کی اعلی ریاستی سطح سے بی ایل اے کی مسلسل براہِ راست سرپرستی کوعوامی ریکارڈمیں ثابت شدہ قراردیتی ہے۔یہ امتیاز اس بحث کی جان ہے۔یہ کہناایک بات ہے کہ امارات میں ایسے مالی،سیاسی یاانفرادی عناصرہوسکتے ہیں جوبلوچ علیحدگی پسندوں کیلئے سہولت پیداکرتے ہوں ؛یہ کہنادوسری بات ہے کہ یہ سب کچھ متحدہ عرب امارات کی مرکزی ریاستی پالیسی اوراعلی قیادت کے براہِ راست حکم سے ہورہاہے۔ 
دستاویزبالآخرایک قابل فہم مفروضہ پیش کرتی ہے کہ یواے ای سے منسلک مالی یاسیاسی کردار،ممکنہ سرکاری چشم پوشی کے ماحول میں،بلوچ علیحدگی پسندعناصر کی معاونت کرسکتے ہیں، اورپاکستانی اشرافیہ کی مالی وابستگیاں مؤثرردعمل میں رکاوٹ بن سکتی ہیںمگرمفروضے کی شائستگی اسی میں ہے کہ اسے فیصلہ نہ بنایاجائے۔قومی سلامتی کے معاملات میں دوانتہائیں یکساں نقصان دہ ہیں:ایک یہ کہ ہرشبہے کوسازش کہہ کرنظراندازکردیاجائے؛دوسری یہ کہ ہر قرینے کوقطعی جرم سمجھ کرسفارتی فیصلہ صادرکردیا جائے۔دانش مندی دونوں کے درمیان اس پل کانام ہے جس کی بنیادتحقیق،مالیاتی سراغ رسانی،انٹیلی جنس تعاون اورقابلِ تصدیق شہادت پرقائم ہو۔
آخرکاراس پوری بحث کاجوہرایک ہی مرکزی سوال میں سمٹ آتاہے کہ کیامتحدہ عرب امارات نے صرف گوادرکوایک معاشی وتزویراتی حریف کے طورپردیکھا،یااماراتی ریاستی اداروں یایواے ای سے وابستہ غیرریاستی عناصرنے جائزمسابقت کی حدعبورکرکے بلوچ علیحدگی پسندسرگرمیوں کی عملی معاونت بھی کی ہے؟فراہم کردہ دستاویزبھی اسی سوال کواپنی آخری کسوٹی قراردیتی ہے۔دستیاب مواد سے کم ازکم اتناضرورسامنے آتاہے کہ اس کوسرسری افواہ کہہ کردفن کرنادانش مندی نہیں۔ایک سابق اعلی انٹیلی جنس عہدیدارسے منسوب الزام،گوادراورخلیجی تجارتی مفادات کاممکنہ تصادم،امارات میں بلوچ عسکریت سے منسلک افرادکے روابط،مالی معاونت سے متعلق رپورٹس،اورپاکستانی سیاسی وانتظامی اشرافیہ کی وسیع مالی وابستگیاںیہ سب مل کرایک ایساسوالنامہ ضروربناتے ہیں جسے ریاستی سطح پرسنجیدہ تحقیقات کاموضوع ہوناچاہیے۔دستاویزبھی ان عوامل کوایک اہم قومی سلامتی کی تشویش قرار دیتی ہے،تاہم مسلسل اماراتی ریاستی پالیسی کاقطعی ثبوت نہ ہونے کی حد بھی واضح کرتی ہے۔
پاکستان کیلئے اصل سبق شایدامارات سے زیادہ خودپاکستان کے بارے میں ہے۔اگرگوادرقومی مستقبل کادروازہ ہے تواس کی حفاظت صرف بندوق برداردستوں سے نہیں ہوگی۔ اسے شفاف حکمرانی،بلوچستان کے عوام کی سیاسی ومعاشی شمولیت،مضبوط مقامی اداروں،قابلِ اعتمادانٹیلی جنس،غیرملکی مالیاتی روابط کی نگرانی اورایسی خارجہ پالیسی درکارہے جس میں فردکاسرمایہ ریاست کے مفادپرسایہ نہ ڈال سکے۔بلوچستان کے مسئلے کوصرف بیرونی ہاتھ کی کہانی بنادینابھی حقیقت سے فرارہوگا۔بیرونی قوت وہیں قدم جماسکتی ہے جہاں اندرونی محرومی،سیاسی بے یقینی،معاشی ناانصافی یاادارہ جاتی کمزوری اسے زمین فراہم کرے۔ قومی سلامتی کی مضبوط ترین دیوارسرحدپر کھڑی چوکی نہیں،بلکہ وہ شہری ہے جسے اپنی ریاست میں عزت،حصہ،انصاف اورمستقبل دکھائی دیتاہو۔
گوادرکے نیلے پانیوں پرآنے والے جہازصرف مال نہیں لائیں گے؛وہ پاکستان کی ریاستی بصیرت کاامتحان بھی لائیں گے۔اگرہم نے اپنی معیشت کوقرض کے سہارے،سیاست کوذاتی مفادات کے رحم وکرم پراورقومی اثاثوں کومحض تقریروں کی آرائش بنادیاتودوسروں کی چالوں کاشکوہ ہماری کمزوری کامداوا نہ ہوگا۔مگراگرپاکستان اپنے فیصلوں کو مالی انحصار سے آزادکرے،بلوچستان کووفاقی قوت کاحقیقی شریک بنائے،بیرونی مالیاتی وعسکری روابط کی غیر جانبدارتحقیقات کرے،اورہرالزام کوثبوت کی کسوٹی پرپرکھے توگوادررقابت کا میدان نہیں بلکہ قومی خوداعتمادی کی علامت بن سکتاہے۔
تاریخ ہمیشہ یہ نہیں پوچھتی کہ دشمن کون تھا؛کبھی وہ یہ بھی پوچھتی ہے کہ جب خطرے کی آہٹ سنائی دی توریاست کتنی بیدار،کتنی آزاداو اپنے ہی مفادات کے مقابلے میں کتنی دیانت دارتھی۔اسی سوال میں امارات بلوچستان قضیے کی اصل معنویت پوشیدہ ہے،اورشاید پاکستان کے آئندہ تزویراتی سفرکاسب سے بڑا سبق بھی۔
آخرکاراس پوری بحث کارخ بیرونی کرداروں سے زیادہ پاکستان کے اپنے آئینے کی طرف مڑتاہے۔گوادراگرمستقبل کادروازہ ہے تواس کی حفاظت صرف بندوق،باڑاور بندر گاہی منصوبوں سے نہیں ہوگی؛اسے سیاسی اعتماد،معاشی خودمختاری،شفاف حکمرانی اوربلوچستان کے عوام کی حقیقی شمولیت کامضبوط قفل بھی درکارہوگا۔یادرکھیں:بیرونی اثروہاں زیادہ مؤثرہوتاہے جہاں داخلی محرومی،ادارہ جاتی کمزوری اورمعاشی انحصارپہلے سے دراڑیں پیداکرچکے ہوں۔
ریاستیں اکثرطوفان کوسرحدکے اس پارتلاش کرتی ہیں،حالانکہ کبھی کبھی کشتی میں موجودباریک سوراخ زیادہ خطرناک ثابت ہوتاہے۔پاکستان کیلئے اصل امتحان یہ نہیں کہ ہرشبہے کو دشمنی میں بدل دیاجائے،بلکہ یہ ہے کہ ہرالزام کوثبوت،ہر مالی تعلق کوشفافیت اورہرتزویراتی فیصلے کوقومی مفادکی کسوٹی پرپرکھاجائے۔تاریخ شایدیہ نہ پوچھے کہ کون سی طاقت گوادر سے خوفزدہ تھی؛وہ یہ ضرورپوچھے گی کہ جب مفادات کے بادل جمع ہورہے تھے،پاکستان نے اپنے چراغ کتنے روشن رکھے۔