گوادر: رقابت کے سائے

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
بعض اوقات قوموں کی تقدیرتوپوں کی گھن گرج میں نہیں،بندرگاہوں کے خاموش پانیوں میں لکھی جاتی ہے۔سمندربظاہر پرسکون رہتاہے،مگر اس کی تہہ میں تجارت، طاقت، مفاد اورجغرافیہ کی ایسی لہریں چل رہی ہوتی ہیں جوپورے خطے کارخ بدل سکتی ہیں۔گوادربھی اسی نوعیت کاایک ساحلی نقطہ ہے؛نقشے پرایک بندرگاہ،مگر تزویراتی منظرنامے میں ایک ایسی شطرنج کی بساط جہاں ہرمہرہ اپنی جگہ سے کہیں زیادہ معنی رکھتاہے۔
بلوچستان کی داخلی بے چینی،علاقائی تجارتی مسابقت،بیرونی مالی اثرات اورپاکستان کی معاشی کمزوریاں جب ایک ہی افق پرابھرتی ہیں توسوال محض یہ نہیں رہتاکہ پردے کے پیچھے کون ہے،بلکہ یہ بن جاتاہے کہ پردہ حقیقت میں کتناموٹا اور اس کے پیچھے دکھائی دینے والے سائے کتنے حقیقی ہیں۔اس لیے یہ بحث الزام کی تلواراٹھانے کی بجائے ثبوت کاچراغ جلانے کی متقاضی ہے کیونکہ قومی سلامتی کے حساس معاملات میں شورسے زیادہ اہم وہ خاموش نشانیاں ہوتی ہیں جو وقت کے ساتھ ایک بڑی تصویر تشکیل دیتی ہیں۔
تاریخِ اقوام کا ایک عجیب دستور ہے کہ بڑے معرکے ہمیشہ میدانِ جنگ میں نہیں لڑے جاتے۔ کبھی بندرگاہیں توپوں سے زیادہ فیصلہ کن ثابت ہوتی ہیں، کبھی قرض کی ایک سطر لشکر کے ایک دستے سے زیادہ دبا ؤپیدا کرتی ہے، اور کبھی چند تجارتی راستے پورے خطے کی سیاست کا قبلہ متعین کر دیتے ہیں۔ بحرِ عرب کے ساحل پر واقع گوادر بھی محض ایک بندرگاہ نہیں؛ یہ جغرافیہ، تجارت، توانائی، چین کے ابھرتے ہوئے اثرورسوخ، خلیجی معیشت اور پاکستان کی قومی سلامتی کے باہم ملتے ہوئے دائروں کا نقط اتصال ہے۔
کیا بلوچستان کی بے چینی کے پسِ پردہ صرف داخلی محرومیاں کارفرما ہیں، یا بحرِ عرب کے کنارے ابھرتا ہوا گوادر کسی ایسی خاموش علاقائی کشمکش کا مرکز بن چکا ہے جس کے اثرات بظاہر نظر آنے والی سفارت کاری سے کہیں زیادہ گہرے ہیں؟ کیا خلیج کی معاشی رقابت، بین الاقوامی تجارتی مفادات، بلوچ علیحدگی پسند نیٹ ورکس اور پاکستان کی اپنی سیاسی و مالی کمزوریاں ایک دوسرے سے کہیں نہ کہیں جا ملتی ہیں؟ اور اگر ایسا ہے تو سوال یہ نہیں رہتا کہ الزام کس پر ، بلکہ یہ کہ دستیاب شواہد حقیقت کی کس حد تک گواہی دیتے ہیں؟
رپورٹ میں میں پیش کیے گئے الزامات، قرائن، معاشی مفادات اور قومی سلامتی کے حساس نکات اورسوالات کا تاریخی و تحقیقی جائزہ لیتے ہوئے ہر دعوے کو ایک ہی میزان میں نہیں تولا گیا: بعض امور دستاویزی ریکارڈ اور تاریخی حوالوں کی صورت میں سامنے آئے، بعض الزامات، مالی و تزویراتی قرائن اور مشتبہ روابط کی شکل اختیار کرتے ہیں ۔ مقصد کسی پیشگی فیصلے پر مہر لگانا نہیں، بلکہ شواہد اور شبہات کے درمیان موجود اس باریک لکیر کو تلاش کرنا ہے جہاں معاشی رقابت خفیہ مداخلت میں بدل گئی اور پاکستان کی خارجی کمزوری اس کی داخلی فیصلہ سازی کو متاثر کرگئی۔ کیونکہ تحقیق کا وقار یہ ہے کہ قرینے کو ثبوت ، شبہے کو فیصلہ اور الزام کو حقیقت کا قائم مقام نہیںٹھہرایا گیا مگر جب مختلف واقعات، مفادات اور روابط بار بار ایک ہی سمت اشارہ کرنے لگیں تو انہیں نظرانداز کرنا بھی تحقیق نہیں، غفلت بن جاتا ہے۔ یہ مضمون اسی پرد ہ ابہام کو ایک ایک تہہ اٹھا کر دیکھنے کی کوشش ہے۔
اس قضیے کی پہلی اہم گرہ دستاویزکے مطابق2008کی ایک خفیہ پارلیمانی بریفنگ سے کھلتی ہے،جس میں اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل احمدشجاع پاشا سے منسوب یہ مؤقف سامنے آیاکہ بھارت،روس اورمتحدہ عرب امارات بلوچستان کی شورش میں معاون کرداراداکررہے تھے۔دستاویزکاآغازایک حساس سوال کہ متحدہ عرب امارات نے بلوچ لبریشن آرمی،یعنی بی ایل اے،کواسلحہ اورمالی معاونت فراہم کی اوراس کابنیادی محرک گوادربندرگاہ کی ترقی کی مخالفت تھا۔یہ الزام اپنی نوعیت میں اس لیے معمولی نہیں کہ اسے کسی غیرمعروف مبصریااخباری قیاس سے نہیں،بلکہ پاکستان کے اعلیٰ ترین انٹیلی جنس منصب سے منسوب کیاگیامگرتاریخی تحقیق کامیزان ہمیں یہ بھی سکھاتاہے کہ اعلی منصب سے صادرہونے والاالزام یقینا سنجیدہ توہوتاہے،لیکن کیااپنی ذات میں عدالتی یاناقابلِ تردیدثبوت بن سکتاہے؟اس کاجواب یقینا بڑامشکل ہے۔
یہاں اصل سوال دوسطحوں پرپیداہوتاہے۔پہلی سطح یہ ہے کہ کیاپاکستان کی ریاستی مشینری کے پاس ایسے معلوماتی قرائن موجودتھے جن کی بنیادپراماراتی کردارپرشبہ کیاگیا؟ دستاویز اس کاجواب اثبات میں دیتی ہے۔دوسری اورزیادہ کڑی سطح یہ ہے کہ کیایہ تعاون کسی منظم، مسلسل اورریاستی پالیسی کاحصہ تھا؟اس سوال کاقطعی جواب خودفراہم کردہ موادبھی نہیں دیتا ۔یوں2008کی بریفنگ کواس پوری بحث کانقط آغازکہاجاسکتاہے،نقطہ اختتام نہیں۔یہی وہ جگہ ہے جہاں تاریخ کے افق پرپہلادھواں دکھائی دیتاہے،مگرابھی آگ کی پوری ہیئت واضح نہیں ہوتی۔
عالمی سیاست میں دوستی اوررقابت اکثرایک ہی میزپربیٹھتی ہیں۔ریاستیں ایک ہاتھ سے سرمایہ کاری کرتی ہیں تودوسرے ہاتھ سے اپنے دیرینہ معاشی مفادات کی حفاظت بھی کرتی ہیں۔زیرِنظردستاویزمتحدہ عرب امارات اورگوادرکے درمیان ممکنہ کشمکش کواسی زاویے سے دیکھتی ہے۔دستاویز کے مطابق دبئی مشرقِ وسطی کاایک نہایت اہم لاجسٹکس اورری ایکسپورٹ مرکزہے۔اگرگوادرپوری استعداد کے ساتھ کام کرنے لگے اوراسے وسطی ایشیااورمغربی چین تک قابلِ اعتمادزمینی راستے میسرآجائیں توخلیج میں موجودبعض قائم شدہ تجارتی مراکز کیلئے مسابقت پیداہوسکتی ہے۔اسی تناظرمیں دستاویزیہ استدلال پیش کرتی ہے کہ گوادرکو غیرمستحکم رکھناایک ابھرتے ہوئے تجارتی حریف کومحدود کرنے کاذریعہ بن سکتاہے۔
 یہاں سی پیک کی جہت معاملے کواورگہراکردیتی ہے۔گوادرصرف پاکستانی تجارت کامنصوبہ نہیں رہتابلکہ چین کے بحیرہ عرب تک رسائی کے بڑے تصورسے جڑجاتاہے۔یوں ایک بندرگاہ کے گردتین دائرے بن جاتے ہیں:پاکستان کی معاشی خودمختاری،چین کی تزویراتی رسائی اورخلیجی بندرگاہوں کی موجودہ تجارتی برتری۔تاہم مسابقت بذاتِ خودتخریب کا ثبوت نہیں۔دنیامیں سنگاپور،دبئی،جبل علی،چاہ بہار،دوحہ اوردیگربندرگاہیں ایک دوسرے سے مقابلہ کرتی ہیں؛ہرمعاشی حریف لازمادوسرے کے خلاف خفیہ کارروائی نہیں کرتا۔ لہذاگوادردبئی رقابت ممکنہ محرک توفراہم کرتی ہے،مگرمحرک اورجرم کے درمیان ایک ایسافاصلہ ہوتاہے جسے محض سیاسی خطابت سے نہیں بلکہ قابلِ تصدیق ثبوت سے طے کیاجاتا ہے ۔
اسی لیے اس نکتے کی صحیح تعبیریہ ہے کہ گوادرکی کامیابی خلیجی بحری تجارت کے موجودہ توازن میں تبدیلی لاسکتی ہے،اوریہی تبدیلی بعض ریاستوں کواپنے مفادات کے تحفظ کیلئے زیادہ فعال بھی بناسکتی ہے اورمقابلے کالاحق خوف اور نتیجہ ازخودکسی عسکری یاعلیحدگی پسندتنظیم کی سرپرستی کی طرف اشارہ بھی کرتاہے۔فراہم کردہ دستاویزایسے مبینہ مالی اورلاجسٹک روابط کا ذکرکرتی ہے جن کے بارے میں کہاگیاہے کہ ان کی کڑیاں لندن،قطر،متحدہ عرب امارات اوربلوچ عسکریت پسندحلقوں تک جاتی تھیں۔یہ نکتہ سب سے زیادہ حساس بھی ہے اور سب سے زیادہ تحقیق طلب بھی۔ دستاویزکے مطابق دبئی میں بی ایل اے سے منسلک بعض اکاؤنٹس میں قابلِ ذکررقوم پہنچنے کے دعوے سامنے آئے،حتی کہ بعض رپورٹس میں  خواتین عسکریت پسندوں کی عملی مالی معاونت کوبھی دبئی میں مقیم افرادسے منسلک کیاگیاہے۔
شارجہ سے مزیداہم واقعہ راشد بلوچ کی گرفتاری کاہے جو2019 میں کراچی میں چینی قونصل خانے پرحملے کے ایک اہم سہولت کارکے طورپر نامزد ہے۔اس واقعے سے ایک قابلِ غوربات ضرورنکلتی ہے:بلوچ عسکری یاعلیحدگی پسندحلقوں سے منسلک افرادکی امارات میں موجودگی یانقل وحرکت کاسوال محض نظری نہیں رہتالیکن یہاں بھی منطقی احتیاط لازم ہے۔ کسی ملک میں کسی مشتبہ شخص کی موجودگی اوراس ملک کی ریاستی سرپرستی دومختلف حقیقتیں ہیں بلکہ گرفتاری کاواقعہ بعض حالات میں اس کے برعکس ریاستی تعاون کی دلیل بھی سمجھاجا سکتا ہے۔
دستاویزمیں یمن میں جنوبی عبوری کونسل(ایس ٹی سی)کیلئے اماراتی حمایت کوایک وسیع ترعلاقائی طرزکی مثال کے طورپربھی پیش کیاگیاہے،یعنی مقامی یاعلیحدگی پسندقوتوں کے ذریعے اسٹریٹجک اہداف کے حصول کی پالیسی۔ مگر ایک خطے کی پالیسی کودوسرے خطے پرخودکارطورپرمنطبق کرناتحقیق نہیں بلکہ قیاس ہوگا۔قرائن چراغ کی مانندراستہ دکھا سکتے ہیں، مگر وہ ہمیشہ منزل کا نام نہیں بتاتے۔(جاری ہے)