شمال مغربی نائیجیریا کی ریاست کٹسینا ایک بار پھر خوفناک خونریزی کی لپیٹ میں آگئی، جہاں مسلح ڈاکوؤں نے مسجد اور قریبی دیہات پر حملہ کر کے کم از کم 50 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ واقعہ منگل 19 اگست کو ضلع مالوم فاشی کے علاقے اُنگوار مانتاؤ میں پیش آیا، جب فجر کی نماز کے دوران ایک مسجد کو نشانہ بنایا گیا۔ ابتدائی اطلاعات میں چند ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی تھی، تاہم بعد میں تعداد بڑھ کر 32 تک پہنچ گئی۔ مقامی رکنِ اسمبلی امینو ابراہیم کے مطابق صرف مسجد پر حملے میں 30 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ قریبی دیہات میں مزید 20 افراد کو زندہ جلایا گیا۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے نمازیوں پر اندھا دھند فائرنگ کی، گھروں کو آگ لگائی اور متعدد افراد کو اغوا کر کے اپنے ساتھ لے گئے۔ رہائشی نورا موسیٰ کے مطابق 9 افراد موقع پر جاں بحق ہوئے جبکہ کئی زخمی اسپتال پہنچنے سے پہلے دم توڑ گئے۔یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب مقامی دیہاتی محافظوں نے چند روز قبل ڈاکوؤں کے ایک گروہ پر گھات لگا کر جوابی کارروائی کی تھی۔ محافظ پوری رات پہرے کے بعد فجر کی نماز اور آرام کے لیے مسجد میں جمع ہوئے تھے کہ اچانک حملہ آوروں نے دھاوا بول دیا۔
نائیجیریا میں ڈاکوؤں کی یہ لہر برسوں سے جاری ہے جس کی جڑیں زمین اور پانی کے تنازعات میں ملتی ہیں، جو بعد میں منظم جرائم میں بدل گئے۔ ان گروہوں کے جرائم میں اغوا برائے تاوان، مویشی چوری، گھروں کو لوٹنے اور دیہات جلانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔کچھ ریاستوں میں امن معاہدوں کے بعد وقتی سکون دیکھنے میں آیا ہے، تاہم کٹسینا اور نائجر میں حملوں کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مقامی قانون سازوں نے اس صورتحال کو ناقابلِ برداشت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ لوگ خوف و ہراس کے باعث اپنے گاؤں اور بستیاں چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔