پاکستان کے مجموعی بیرونی قرضے اور واجبات اب 130 ارب ڈالر کی نئی بلند ترین سطح تک پہنچ گئے ہیں، جن میں زیادہ تر قرضہ صرف پانچ عالمی کرنسیوں میں مرکوز ہے۔
وزارتِ خزانہ کی 2026 تا 2028 ڈیٹ مینجمنٹ اسٹریٹیجی کے مطابق:
امریکی ڈالر: 57.8 فیصد
آئی ایم ایف کے اسپیشل ڈرائنگ رائٹس (SDRs): 29.88 فیصد
چین کا یوان: 5.21 فیصد
جاپان کا ین: 3.95 فیصد
یورو: 2.62 فیصد
یہ قرضہ چند بڑی کرنسیوں تک محدود ہونے کے سبب زرمبادلہ کے ذخائر اور شرحِ مبادلہ پر دباؤ بڑھنے کا خطرہ رکھتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی مستقبل کی فنانسنگ زیادہ تر دوطرفہ اور کثیرالجہتی ذرائع پر منحصر ہوگی، کیونکہ یہ قرضے عموماً رعایتی شرح سود اور طویل المدتی ادائیگیوں کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔حکومت نے اپنی اسٹریٹیجی میں بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس تک دوبارہ رسائی کے لیے مختلف مالیاتی ذرائع اختیار کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جن میں "پانڈا بانڈز، سسٹین ایبل بانڈز اور یورو بانڈز" کے اجرا پر غور شامل ہے۔ اس سے قرضوں کی فراہمی متنوع اور زیادہ لچکدار شرائط پر ممکن ہو سکے گی۔تاہم، رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اس عمل کی کامیابی عالمی شرحِ سود اور مجموعی معاشی استحکام پر منحصر ہوگی، اور موافق حالات نہ ہونے کی صورت میں حکومت کو قرضوں کی ادائیگی اور مزید فنانسنگ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔