ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا ہے کہ انہیں اسرائیل نے ایران کے ساتھ جنگ کے لیے قائل نہیں کیا، بلکہ 7 اکتوبر کے واقعات اور ان کے دیرینہ مؤقف نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جا سکتے۔
انہوں نے اپنے بیان میں میڈیا کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ نام نہاد “جعلی خبروں” اور “دھاندلی زدہ تجزیوں” پر یقین نہیں رکھتے۔ ان کے مطابق میڈیا کی بڑی تعداد جھوٹ پر مبنی معلومات پھیلاتی ہے اور اہم حقائق کو چھپاتی ہے۔ ٹرمپ نے 2020 کے امریکی صدارتی انتخابات اور وینزویلا کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان معاملات میں بھی شفافیت نہیں دکھائی گئی۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران میں قیادت دانشمندی سے فیصلے کرے تو ملک کا مستقبل روشن ہو سکتا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ عالمی سطح پر ایران کے کردار اور پالیسیوں میں تبدیلی ناگزیر ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے اور ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی طاقتوں، خصوصاً امریکہ، کی تشویش بدستور موجود ہے۔