امریکی سینیٹ میں ایلزبتھ وارن نے ایران کے خلاف جاری جنگ پر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ غیر قانونی جنگ جھوٹ پر مبنی ہے۔
سینیٹر وارن نے خفیہ بریفنگ کے بعد کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے پاس ایران کے حوالے سے کوئی واضح حکمتِ عملی موجود نہیں، اور صورتحال تصور سے بھی زیادہ خراب ہے۔ڈیموکریٹک اقلیتی لیڈر چک اسکمر نے بھی انٹیلی جنس کمیٹی کی بریفنگ کے بعد کہا کہ جنگ کا جواز بار بار تبدیل کیا جا رہا ہے، کبھی رجیم چینج، کبھی نیوکلیئر ہتھیار، کبھی میزائل پروگرام اور کبھی دفاع کے مؤقف کے تحت۔سینیٹر وارن نے کہا کہ یہ جنگ ایران کی جانب سے امریکا کے لیے فوری خطرے کے بغیر شروع کی گئی اور اس میں قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ انہوں نے جنگ کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
ڈیموکریٹک سینیٹر بلومینٹل نے خدشہ ظاہر کیا کہ امریکا ممکنہ طور پر ایران میں زمینی افواج بھیجنے پر غور کر رہا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے ٹرمپ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو کو غزہ کو تباہ کرنے کے لیے اربوں ڈالر چاہئیں تھے، جو امریکا نے فراہم کیے، اور ایران کے ساتھ جنگ کی نیت بھی پوری کر دی۔