چین اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی جنگ کے اثرات اب ایوی ایشن صنعت تک پہنچ چکے ہیں، جس کا ایک نیا پہلو اس وقت سامنے آیا جب امریکی کمپنی بوئنگ کا تیار کردہ طیارہ 737 میکس چین کے لیے واپس کر دیا گیا۔
اس طیارے کی تیاری چین کے شہر روشان میں بوئنگ کے مرکز پر کی جا رہی تھی، اور اس کی آخری مراحل میں تکمیل کے بعد یہ طیارہ چینی ایئر لائن کے حوالے کیا جانا تھا۔
کسٹم ٹیرف کا اثر:
چینی ایئر لائن کے لیے تیار ہونے والا یہ طیارہ امریکی کسٹم ٹیرف کے معاملے سے متاثر ہو کر واپس کیا گیا۔ امریکی صدر نے رواں ماہ چینی درآمدات پر 145 فیصد تک کا کسٹم ٹیرف عائد کر دیا، جس کے جواب میں چین نے امریکی مصنوعات پر 125 فیصد ٹیرف لگا دیا ہے۔ اس نئی تجارتی حکمت عملی کے نتیجے میں نہ صرف دوطرفہ تجارتی تعلقات متاثر ہو رہے ہیں، بلکہ ایوی ایشن جیسے حساس شعبے پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
طیارہ 737 میکس کی مارکیٹ ویلیو:
اس طیارے کی مارکیٹ ویلیو 5.5 کروڑ ڈالرز کے قریب ہے اور یہ چین میں بوئنگ کی سب سے بڑی منصوبہ بندیوں میں سے ایک تھا۔ تاہم، نئے ٹیکس ٹیرف کے باعث بوئنگ 737 میکس جیسے طیاروں کی فراہمی میں مشکلات آ سکتی ہیں، جو نہ صرف چین کے لیے بلکہ عالمی سطح پر ایوی ایشن کمپنیوں کے لیے بھی سنگین مسائل کا باعث بن سکتے ہیں۔
چین اور امریکا کے تجارتی تعلقات:
یہ صورتحال چین اور امریکا کے درمیان جاری تجارتی کشیدگیوں کا عکاس ہے، جس میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر تجارتی پابندیاں عائد کی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان کسٹم ٹیرف کی اس جنگ کے اثرات صرف تجارتی اشیاء تک محدود نہیں رہے، بلکہ عالمی ایوی ایشن کی صنعت بھی اس کی زد میں آ چکی ہے۔
آگے کیا ہو گا؟
اب دیکھنا یہ ہے کہ دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات میں مزید کشیدگی آنے پر ایوی ایشن صنعت اور عالمی تجارت پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ بوئنگ جیسے عالمی سطح پر معروف ادارے کے لیے اس طرح کی تجارتی جنگ کے اثرات شدید ہو سکتے ہیں، جو طیارہ ساز کمپنیوں کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتے ہیں۔