لاہور ہائیکورٹ:بانی کی8 کیسز میں درخواستیں سماعت کیلئے مقرر

بینچ 23 اپریل کو ضمانت پر سماعت کریگا،یاسمین راشد کیوکلا سے دلائل طلب 
26 نومبر کے مظاہروں پرمقدمات،15پی ٹی آئی رہنمائوں کی ضمانت منسوخ 
 لاہور،راولپنڈی ( مانیٹرنگ ڈیسک)لاہور ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی 9 مئی کے 8 کیسز میں ضمانت کی درخواستیں سماعت کیلئے مقرر کردیں ،جسٹس شہباز رضوی اور جسٹس طارق سلیم شیخ پر مشتمل دو رکنی بینچ 23 اپریل کو درخواست پر سماعت کرے گا۔ انسداد دہشتگردی عدالت نے لاہور کے علاقے کینٹ میں نو مئی کے واقعات میں جلائو گھیرا پردرج مقدمہ میں پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کی ضمانت پر سماعت کرتے ہوئے وکلا سے دلائل طلب کر لیے ، جج منظر گل نے کارروائی 22 اپریل تک ملتوی کردی۔انسداد دہشتگردی راولپنڈی کی خصوصی عدالت نے 9 مئی کے 11 مقدمات میں مزید 7ملزموں میں چالان کی نقول تقسیم کے بعد سماعت 26 اپریل تک ملتوی کردی ، آئندہ تاریخ پر فرد جرم عائد کی جائیگی ،عدالت نے عمر ایوب کی درخواست ضمانت پر سماعت بھی 24 اپریل تک ملتوی کردی۔گزشتہ روز سماعت پر عمر ایوب، کنول شوزب، زرتاج گل، عارف عباسی ودیگر ملزموں کو چالان کی نقول تقسیم کی گئیں، ملزموں پر تھانہ صدر واہ، تھانہ ٹیکسلا، تھانہ سول لائن، تھانہ صادق آباد اور تھانہ سٹی میں مقدمات درج ہیں ۔ مقدمات کی سماعت جج امجد شاہ نے کی۔ اس موقع پر بانی پی ٹی ائی اور دیگر ملزموں کے وکلا جبکہ پراسیکیوشن کی جانب سے پراسیکیوٹر ظہیر شاہ عدالت پیش ہوئے۔ 9مئی کے مقدمات میں عمران خان ، شاہ محمود قریشی، علی امین گنڈاپور، شبلی فراز، عمر ایوب و دیگر کو نامزد کیا گیا ہے۔ عمر ایوب کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران عمر ایوب اور انکے وکیل ڈاکٹر بابر اعوان پیش ہوئے ، وکلا نے ضمانت بحالی درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دئیے۔پراسیکیوشن کا موقف تھا کہ عدم حاضری پر خارج ہونے والی ضمانت میں پہلے عدالت کو وجوہات سے آگاہ کرنا ضروری ہے، عدالت مطمئن ہو تو ہی درخواست سنی جا سکتی ہے۔ انسداد دہشتگردی راولپنڈی کی خصوصی عدالت نے 26 نومبر کے مظاہروں پرمقدمات میں پی ٹی آئی کے15 رہنمائوں صنم جاوید، مشعل یوسفزئی، راجہ بشارت، سمیع ابراہیم، جاوید کوثر، سیمابیہ طاہر، تیمور مسعود ودیگر کی عبوری ضمانت منسوخ کر دی۔ عدالت نے یہ فیصلہ اس وقت سنایا جب ملزم متعدد بار نوٹسز کے باوجود پیش نہ ہوئے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ملزموں نے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے جسکی بنیاد پر عبوری ضمانت منسوخ کی جا رہی ہے۔