اندھیروں سے روشنی تک

سمیع اللہ ملک (پہلی قسط)
معززشرکائے مجلس،صاحبانِ ایمان،معززعلمائے کرام،دانشورانِ ملت،دلوں کی دھڑکنوں کوچھولینے والی سچائی اورانسانیت کی وحدت کے متلاشی قلوب کیلئے حددرجہ آداب اور ڈھیروں سلامتی کی دعاؤں کے بعد: 
میں عالمی بین المذاہب کونسل کا تہِ دل سے ممنون ہوں،جنہوں نے صرف ایک تقریب نہیں بلکہ انسانیت کی بقا،دلوں کی قربت،اور ایک پرامن مستقبل کی جانب ایک روشن قدم اٹھایاہے۔آج ہم ایک ایسے عظیم المرتبت اورجلیل القدرنبی کے ذکرِجمیل سے محفل کو منورکررہے ہیں جن کی داستانِ حیات نہ صرف اہلِ اسلام کیلئے باعثِ فخرہے،بلکہ یہودیت و عیسائیت کے پیروکاروں کیلئے بھی ہدایت وبصیرت کاایک درواکرتی ہے۔یہ وہ کہانی ہے جوتینوں آسمانی مذاہب کے دلوں میں دھڑکتی ہے،ایک نبی،ایک دعا،اورایک اندھیرا  جس سے روشنی نے جنم لیا۔یہ سفرہے مایوسی سے امیدتک،نفرت سے محبت تک،اورفرقوں سے انسانیت کی طرف کا،جس پرآج بھی عمل کرکے اس دنیاکوامن کاگہوارہ بناسکتے ہیں۔
حضرت یونس،جنہیں قرآن میں ذوالنون اورصاحب الحوت کے القاب سے بھی یادکیاگیا،ان ہستیوں میں سے ہیں جن کاتذکرہ قرآنِ مجید، بائبل اورعبرانی صحائف تینوں میں یکساں تقدیس وتوقیرکے ساتھ ملتاہے۔ان کی زندگی،محض ایک واقعہ نہیں،بلکہ ایک زندہ روحانی درس گاہ ہے۔ایک دعوتِ توبہ،ایک پکارِمحبت،ایک نوائے امن ہے۔آئیے میں سب سے پہلے بحیثیت مسلمان اللہ کے آخری نبیﷺپرنازل آخری کتاب قرآن کریم  کے حوالوں سے اپنی گفتگوکآغازکرتاہوں جوہمارے آقاکاایک ایسامعجزہ بھی ہے جس کے ہرایک لفظ کی حفاظت کاذمہ خود اس رب کریم نے اپنے ذمہ لیا ہے جس نے قیامت تک آنے والے ہرفرداورانسانیت کیلئے یہ کتاب نازل فرمائی تاکہ ہم اسے اپنی زندگیوں میں نافذکرسکیں اورفلاح پا سکیں۔ 
حضرت یونس کاقصہ تینوں ابراہیمی مذاہباسلام،یہودیت،اورعیسائیت میں ایک مشترکہ روحانی میراث کی حیثیت رکھتاہے جو توبہ،رحمت،اورانسانی کمزوری کی گہرائیوں کواجاگرکرتا ہے۔یہ واقعہ نہ صرف مذہبی متون میں بیان ہواہے بلکہ انسانی ضمیراور اخلاقی بصیرت کاآئینہ بھی ہے۔یہ وہ کہانی ہے جوتینوں آسمانی مذاہب کے دلوں میں دھڑکتی ہے۔ایک نبی، ایک دعا،اورایک اندھیرا  جس سے روشنی نے جنم لیا۔یہ سفرہے مایوسی سے امیدتک،نفرت سے محبت تک،اورفرقوں سے انسانیت کی طرف۔۔۔۔یہ وہ آوازہے جووقت کی دھول میں گم ہوچکی تھی اورآج اس مجلس میں،وہی آوازایک بارپھر بین المذاہب محبت،احترام اورہم آہنگی کے ترانے کے طورپرگونج رہی ہے۔
قرآنِ حکیم میں حضرت یونس علیہ السلام کاذکر6سورتوں میں آیاہے جن میں ان کی نبوت،قوم کی نافرمانی،اورمچھلی کے پیٹ میں ان کا قیام شامل ہیں۔ سورہ الصافات کی آیات 139 - 148 میں فرمایا:اوربے شک یونس پیغمبروں میں سے تھے۔جب وہ بھاگ کربھری ہوئی کشتی کی طرف گئے۔پھرقرعہ اندازی کی،تووہ ہارنے والوں میں سے ہوگئے۔ پھر مچھلی نے انہیں نگل لیااوروہ ملامت زدہ تھے۔پھراگروہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے،تووہ قیامت کے دن تک اس کے پیٹ میں رہتے۔پھرہم نے انہیں چٹیل میدان میں پھینک دیااوروہ بیمارتھے۔اورہم نے ان پرکدوکادرخت اگایا۔اورہم نے انہیں ایک لاکھ یااس سے زیادہ لوگوں کی طرف بھیجا۔پھروہ ایمان لائے،توہم نے انہیں ایک مدت تک فائدہ پہنچایا۔
رب کریم نے قرآن کی سورہ نساآیت163میں ارشادفرمایا:اورہم نے نوح اوران کے بعدآنے والے نبیوں کی طرف وحی کی،اورہم نے ابراہیم،اسماعیل،اسحاق،یعقوب ، اسباط،عیسی،ایوب،یونس، ہارون اورسلیمان کی طرف وحی کی،اورہم نے دادکوزبورعطاکی۔
سورہ الانعام کی آیت86میں فرمایا:اوراسماعیل،الیسع،یونس اورلوط کو(بھی ہدایت دی)،اورہم نے ان سب کوجہان والوں پرفضیلت دی۔
ائیے اورآگے بڑھتے ہیں۔رب کریم قرآن میں سورہ یونس کی آیت98میں فرماتے ہیں:
توکوئی بستی ایسی کیوں نہ ہوئی جوایمان لاتی اوراس کاایمان اسے نفع دیتا،سوائے یونس کی قوم کے؟جب وہ ایمان لائے توہم نے ان سے دنیاکی زندگی میں رسوائی کاعذاب دورکردیااورانہیں ایک مدت تک فائدہ پہنچایا۔
سورہ الانبیاکی ٓیت (87)میں فرمایا:اورذوالنون(کویادکرو)جب وہ(اپنی قوم سے ناراض ہوکر)غصے کی حالت میں چل دیئے اورخیال کیاکہ ہم ان پرقابو نہیں پاسکیں گے۔ آخر اندھیرے میں(خداکو)پکارنے لگے کہ تیرے سواکوئی معبودنہیں۔توپاک ہے(اور)بیشک میں قصوروارہوں۔یہ وہ لمحہ ہے جب نبی اپنی قوم سے دل برداشتہ ہوکرروانہ ہوا،اور مچھلی کے پیٹ میں تین اندھیروں میں گم ہوکررب کوپکارا۔اوررب نے جواب دیا،کیونکہ اس کی رحمت،اس کے غضب پرغالب ہے۔
قرآن کریم میں حضرت یونس کاذکر’’صاحِبِ الحوتِ‘‘مچھلی والے کے لقب سے کیاگیاہے۔’’اوراپنے رب کے حکم کیلئے صبرکرو،اورمچھلی والے(یونس)کی مانندنہ ہوجا،جب اس نے غصے میں پکارااوروہ دل ہی دل میں غم سے بھراہواتھا۔اگراس کے رب کی طرف سے اس پرنعمت نہ ہوتی تواسے میدان میں پھینک دیاجاتا،اوروہ ملامت زدہ ہوتا۔پس اس کے رب نے اسے چن لیا،اوراسے نیکوکاروں میں شامل کردیا‘‘ (القلم:48-50)۔یعنی یہ آیات ان کے صبر،توبہ واستغفاراوراللہ کی رحمت سے نجات کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
یہ آیات حضرت یونس کے واقعے کوصبرواستغفار،ندامت اوررب کی رحمت کامکمل آئینہ بناکرپیش کرتی ہیں۔وہ لمحہ جب وہ دل گرفتہ اورغصے میں رب کوپکارتے ہیں،اورپھراللہ کی طرف سے نعمت یعنی مغفرت اورفضل ان پر نازل ہوتاہییہ اسباق ہرمومن،ہر انسان کیلئیایک روحانی مشعل راہ ہیں۔ان کانام حدیث میں یونس بن متی آیاہے۔آگے بڑھنے سے پہلے میرے آقانبی اکرمﷺ کاقول مبارک بھی ملاحظہ فرمائیں:بہت ہی جلیل القدرصحابی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:کسی بندے کے لائق نہیں کہ وہ کہے کہ میں یونس بن متی سے بہترہوں۔
حضرت یونس کا تذکرہ بائبل کی کتاب یوناہ میں بڑی تفصیل سے ملتاہے۔یہ کتاب چارابواب پرمشتمل ہے۔ان میں حضرت یونس کی نبوت،ان کانینوہ کی طرف بھیجاجانا،ان کافرار ، مچھلی کے پیٹ میں ان کا قیام،اورنینوہ کی قوم کی توبہ کاذکرہے۔میں بائبل کی کتاب یوناہ کے چند اہم اقتباسات پیش کرکے اپنامقف آپ کے سامنے رکھ دیتاہوں۔
خداوند کاکلام یونس بن امتی پرنازل ہوا:اٹھ،نینوہ،اس عظیم شہر،کی طرف جااوراس کے خلاف منادی کر،کیونکہ ان کی بدی میرے حضورآگئی ہے۔لیکن یونس خداوندکے حضورسے ترسیس کی طرف بھاگ گیا۔(یوناہ:3-1:1 )
تب خداوندنے ایک بڑی مچھلی مقررکی کہ یونس کونگل لے۔اوریونس تین دن اورتین رات مچھلی کے پیٹ میں رہا۔(یوناہ:17:1)
عیسائی اور یہودی متون میں حضرت یونس کویوناہ کے نام سے جاناجاتاہے۔بائبل کی کتاب یوناہ میں بیان ہے کہ خدانے انہیں نینوہ کی قوم کوخبردارکرنے کاحکم دیا،لیکن وہ فرارہو گئے ۔ایک طوفان کے دوران،انہیں سمندرمیں پھینک دیاگیا،جہاں ایک بڑی مچھلی نے انہیں نگل لیا۔(یوناہ:117)
اورخداوندنے ایک بڑی مچھلی کومقررکیاکہ یوناہ کونگل لے،اوریوناہ تین دن اورتین راتیں مچھلی کے پیٹ میں رہا۔یہاں بڑی مچھلی کا ذکرہے،نہ کہ ویل یاوہیل کا،جیساکہ بعض ترجموں میں آیا ہے۔اصل عبرانی لفظ(داگ گادول)استعمال ہواہے،جس کامطلب بڑی مچھلی ہے۔
اورخداوندکاکلام یوناہ بن امتی کے پاس پہنچا،کہ اٹھ،نینوہ،اس بڑے شہرکوجا،اوراس کے خلاف منادی کر،کیونکہ ان کی شرارت میرے حضورآ پہنچی ہے۔(یوناہ:11-2)
تب یوناہ نے مچھلی کے پیٹ سے خداوند اپنے خداسے دعاکی،اورکہا’’میں نے اپنی مصیبت میں خداوندکوپکارا،اوراس نے مجھے جواب دیا،میں نے پاتال کے پیٹ سے فریادکی، اورتونے میری آوازسنی۔(یوناہ:21-2)
اوریوناہ شہرمیں داخل ہوکرایک دن کی مسافت تک گیا،اورمنادی کی،اورکہا"چالیس دن کے بعدنینوہ الٹ دیاجائے گا۔تب نینوہ کے لوگوں نے خداپرایمان لایا،اورروزہ کااعلان کیا،اوربڑے سے لے کرچھوٹے تک نیٹاٹ پہنا۔(یوناہ:34-5)(جاری ہے)