بھارت: بینک سے مبینہ منسلک خاتون کی سی آر پی ایف اہلکار سے توہین آمیز گفتگو وائرل، بعد میں معافی جاری

بھارت: بینک سے مبینہ منسلک خاتون کی سی آر پی ایف اہلکار سے توہین آمیز گفتگو وائرل، بعد میں معافی جاری

ویب ڈیسک: بھارت میں ایک آڈیو وائرل ہونے کے بعد نوٹوں کے معاملے پر اخلاقیات کی شدید بحث چھڑ گئی، جس میں ایک خاتون نے نیم فوجی دستے کے مقروض اہلکار سے انتہائی توہین آمیز زبان میں بات کی۔

خاتون نے اہلکار سے کہا کہ تم جاہل ہو، پڑھے لکھے ہوتے تو سرحد پر نہ بھیجے جاتے بلکہ کسی اچھی کمپنی میں کام کرتے، دوسروں کا مال ہڑپ نہ کرو، اور تمہارے بچے اسی وجہ سے معذور پیدا ہوتے ہیں۔ اہلکار کے جواب پر خاتون نے کہا کہ تم مجھے کیا سبق سکھاؤ گے، میری فیملی کا بھی فوج سے تعلق ہے، تم قرض پر جی رہے ہو اور مجھے سکھاؤ گے۔یہ آڈیو وائرل ہونے کے بعد بعض افراد نے دعویٰ کیا کہ خاتون انڈیا کے بینک کی ملازمہ ہیں، تاہم بینک نے وضاحت کی کہ وہ اس کی ملازمہ نہیں۔ تاہم لوگوں نے سوال اٹھایا کہ اگر وہ بینک کی ملازمہ نہیں تو اس تک بینک کا ڈیٹا کیسے پہنچا؟

بعد ازاں، خاتون کی بات سے بھارتی فوج کی جگ ہنسائی اور بینکوں کے معاملات پر بحث چھڑ گئی۔ خاتون نے بعد میں ایک معافی آڈیو جاری کی، جس میں انہوں نے کہا کہ آڈیو اور ویڈیو کالز نہ کریں، گندے میسج نہ بھیجیں، اور اہلکار سے اپنی غلطی پر معافی مانگی۔