بھارت میں مذہبی آزادی کو شدید خطرہ، بی جے پی رہنماؤں کی بابری مسجد کی تعمیر پر دھمکی آمیز بیانات

بھارت میں مذہبی آزادی کو شدید خطرہ، بی جے پی رہنماؤں کی بابری مسجد کی تعمیر پر دھمکی آمیز بیانات

بھارت میں ہندو انتہا پسندی اور بی جے پی حکومت کی مذہبی آزادی کے خلاف جاری مہم کی تفصیلات فراہم کرتی ہے، جس میں مختلف ریاستوں میں مساجد کی تعمیر کے خلاف نفرت انگیز بیانات اور دھمکی آمیز رویے سامنے آئے ہیں۔

ویسٹ بنگال کے مرشد آباد میں ایم ایل اے ہمایوں کبیر نے بابری مسجد کے نام سے تعمیر ہونے والی نئی مسجد کا سنگِ بنیاد رکھا، جبکہ بی جے پی کے رہنماؤں اور انتہا پسند تنظیموں نے اس کی مخالفت شروع کر دی ہے۔بی جے پی کے رہنما رامیشور شرما نے مسلمانوں کو دھمکیاں دیتے ہوئے کہا کہ وہ بابری مسجد کی بنیاد کھودیں، جو ان کی قبریں بنانے کا کام کرے گی۔ اسی طرح، اتسو سمیتی کے صدر چندرشیکھر تیواری نے بھی مسجد کی تعمیر کی مخالفت کی اور اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ، رپورٹس کے مطابق مسجد کی تعمیر کے لیے کروڑوں روپے کے عطیات جمع کیے جا چکے ہیں، جو بھارت میں مذہبی انتہا پسندی اور اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی کی بڑھتی ہوئی صورت حال کو ظاہر کرتا ہے۔مودی سرکار کی سخت پالیسیوں اور ہندو قوم پرست بیانیے کے باوجود، بھارت کے مسلمان اپنے مذہبی اور بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں، اور یہ صورتحال بھارت کے سیکولر دعووں پر سوالیہ نشان بن چکی ہے۔