یمن میں حوثی تنظیم نے اقوام متحدہ کے 20 اہلکاروں کو حراست میں لے لیا

یمن میں حوثی تنظیم نے اقوام متحدہ کے 20 اہلکاروں کو حراست میں لے لیا

صنعا: برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق یمن میں حوثی باغیوں کی تنظیم انصارُ اللہ نے اقوام متحدہ کے 20 ملازمین کو حراست میں لے لیا ہے، جن میں یونیسف کے نمائندہ پیٹر ہاکنز بھی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق انصارُ اللہ کے مسلح اہلکاروں نے دارالحکومت صنعا میں اقوام متحدہ کے کمپاؤنڈ پر چھاپہ مارا اور وہاں سے 5 مقامی اور 15 بین الاقوامی اہلکاروں کو گرفتار کیا۔ گرفتار کیے گئے اہلکاروں کا تعلق مختلف اقوام متحدہ کی ایجنسیوں سے بتایا جا رہا ہے، جن میں ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP)، یونیسف (UNICEF) اور دفتر برائے رابطہ انسانی امور (OCHA) شامل ہیں۔اقوام متحدہ کے نمائندے جین عالم نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حوثی فورسز نے ابتدائی تفتیش کے بعد 11 اہلکاروں کو رہا کر دیا ہے، جبکہ باقی ملازمین کی رہائی کے لیے بات چیت جاری ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی تنظیم نے اہلکاروں سے تفتیش کے دوران ان کی سرگرمیوں، رابطوں اور امدادی منصوبوں کے حوالے سے سوالات کیے۔رپورٹ کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں کہ انصارُ اللہ نے اقوام متحدہ کے اہلکاروں کو حراست میں لیا ہو۔

 اس سے قبل رواں سال جنوری میں بھی 8 اہلکاروں کو صوبہ سعدہ میں گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد اقوام متحدہ نے وہاں امدادی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی تھیں۔اقوام متحدہ کے ترجمان نے اس اقدام کی سخت مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تمام اہلکاروں کو فوراً اور بلا شرط رہا کیا جائے، کیونکہ انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے افراد کو تحفظ حاصل ہے۔یاد رہے کہ یمن 2014 سے خانہ جنگی کا شکار ہے، جس میں ایک طرف حوثی باغی ایران کے حمایت یافتہ ہیں جبکہ دوسری جانب سعودی اتحادی افواج کی مدد سے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت ہے۔ اس تنازع کے باعث لاکھوں یمنی شہری قحط، بیماریوں اور انسانی بحران سے دوچار ہیں۔