حکومت گوشت کی پیداوار اور برآمدات میں سہولت فراہم کرے‘ گوشت برآمد کنندگان کا مطالبہ

 ہمارا گوشت معیار میں بہتر ہے، عالمی سطح پر مقابلہ کر سکتے ہیں،حکومت بھرپورسہولتیں فراہم کرے گی، ہارون اختر خان
اسلام آباد(آن لائن)وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اخترکی زیرصدارت اجلاس میں ملائیشیا کو گوشت کی برآمد میں خوراک، نسل اور پیداواری لاگت کو بڑی رکاوٹیں قرار دیا گیا ہے اور گوشت برآمد کنندگان نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت گوشت کی پیداوار اور برآمدات میں سہولت فراہم کرے۔ وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان کی زیرِ صدارت گوشت کی ملائیشیا برآمد سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا۔ اجلاس میں سیکریٹری صنعت و پیداوار سیف انجم اور نجی و سرکاری شعبے کے نمائندگان کی شرکت ہوئی۔اجلاس میں گوشت کی ملائیشیا برآمد کے مسائل اور سفارشات پر غور کیا گیا۔خوراک، نسل اور پیداواری لاگت کو گوشت برآمدات کی بڑی رکاوٹیں قرار دیا گیا۔برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ کولڈ چین کی عدم دستیابی، بینکنگ سہولت اور دستاویزی نظام کی کمی بھی بڑی رکاوٹیں ہیں،گوشت برآمد کنندگان کا مطالبہ تھا کہ حکومت گوشت کی پیداوار اور برآمدات میں سہولت فراہم کرے، بینکنگ سیکٹر معاون نہیں، مویشی منڈی میں نقد ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔اجلا س سے خطاب میں ہارون اخترخان نے کہا کہ ہمارا گوشت معیار میں بہتر ہے، عالمی سطح پر مقابلہ کر سکتے ہیں۔گوشت برآمد کنندگان نے کہا کہ چارے کی قیمتیں زیادہ ہیں اور زمین داروں کے پاس اجارہ داری ہے، ہوائی اڈوں پر کولڈ اسٹوریج کی کمی، گوشت گاڑیوں میں رکھنا پڑتا ہے، بھارت تین اعشاریہ پانچ ڈالر میں گوشت برآمد کر رہا ہے، ہم پانچ ڈالر میں۔پاکستان تاجکستان کو بھی پانچ ڈالر فی کلو کے حساب سے گوشت برآمد کر رہا ہے۔ ہارون اخترخان نے کاہ کہ پاکستان کا گوشت کی ایکسپورٹ کے لیے اعلیٰ معیار کا ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا وژن ہے کہ گوشت کی برآمدات مختلف ممالک تک وسعت دی جائے، حکومت گوشت برآمد کنندگان کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔