پنجاب میں خواتین پر تشدد اور زیادتی کے کیسز میں تشویشناک اضافہ، ایس ایس ڈی او کی رپورٹ جاری

پنجاب میں خواتین پر تشدد اور زیادتی کے کیسز میں تشویشناک اضافہ، ایس ایس ڈی او کی رپورٹ جاری

لاہور:سسٹین ایبل سوشل ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او) نے پنجاب میں خواتین پر تشدد کے واقعات کی فیکٹ شیٹ جاری کر دی ہے۔

گزشتہ چھ ماہ کے دوران پنجاب میں خواتین کے خلاف تشدد کے انتہائی تشویشناک رجحانات سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق جنوری سے جون 2025 کے دوران 15 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے، یعنی روزانہ اوسطاً 85 خواتین مختلف اقسام کے تشدد کا شکار ہوئیں۔یہ اعداد و شمار پنجاب پولیس سے حقِ معلومات (آرٹی آئی) کے تحت حاصل شدہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں خواتین کے خلاف 6 سنگین اقسام کے تشدد شامل ہیں: زیادتی، گھریلو تشدد، اغوا، غیرت کے نام پر قتل، ٹریفکنگ، سائبر ہراسگی، اور دیگر قسم کی ہراسانی۔ اس کے علاوہ، زیر تفتیش، چالان شدہ، زیر سماعت، سزا یافتہ، بری یا واپس لیے گئے مقدمات کی صورتحال بھی شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق، اعداد و شمار ہر ایک لاکھ بالغ خواتین کی آبادی کے حساب سے ترتیب دیے گئے ہیں تاکہ اضلاع کے درمیان صحیح موازنہ کیا جا سکے۔ایس ایس ڈی او کے مطابق، پنجاب میں خواتین سے متعلق جرائم کی رپورٹنگ بہتر ہو رہی ہے، مگر اب بھی پولیس ڈیٹا چھپانے کا رجحان موجود ہے، جس سے معلومات میں کمی اور کارکردگی پر سوالات اٹھتے ہیں۔ روزانہ اوسطاً 9 خواتین کے ساتھ زیادتی، 51 خواتین اغوا، اور 24 خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔

لاہور سب سے زیادہ متاثرہ ضلع کے طور پر سامنے آیا ہے، جہاں زیادتی کے 340، اغوا کے 3018، اور گھریلو تشدد کے 2115 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں بھی لاہور سرفہرست ہے۔ دیگر متاثرہ اضلاع میں ملتان، گجرانوالہ، سیالکوٹ، قصور، ٹوبہ ٹیک سنگھ، اور ننکانہ صاحب شامل ہیں۔سائبر ہراسگی کے کیسز صرف پانچ اضلاع—اوکاڑہ، شیخوپورہ، لیہ، پاکپتن، اور گجرات—میں رپورٹ ہوئے، جو کم رپورٹنگ اور ڈیجیٹل شکایتی نظام تک غیر مساوی رسائی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

مزید برآں، خواتین کی ٹریفکنگ کے جرائم میں مظفرگڑھ اور پاکپتن سرفہرست رہے۔ایس ایس ڈی او کے مطابق، بہاولنگر، بہاولپور، چکوال، چنیوٹ، ڈیرہ غازی خان، فیصل آباد، حافظ آباد، نارووال، رحیم یار خان، راجن پور، راولپنڈی، ساہیوال، اور سرگودھا سمیت کئی اضلاع نے پنجاب انفارمیشن کمیشن کی ہدایت کے باوجود مطلوبہ ڈیٹا فراہم نہیں کیا، جس سے معلومات کی شفافیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔

ایس ایس ڈی او نے فوری اور مربوط اقدامات پر زور دیا ہے، جن میں رپورٹنگ نظام کو بہتر بنانا، پولیس کی تفتیشی صلاحیتیں بڑھانا، عدالتی عمل میں تیزی لانا، اور متاثرہ خواتین کے لیے معاون خدمات کو وسعت دینا شامل ہیں۔تنظیم کا کہنا ہے کہ، شفاف ڈیٹا، جوابدہی پر مبنی حکمرانی، اور کمیونٹی میں آگاہی کو فروغ دے کر ہی خواتین پر تشدد کے مسئلے کا مؤثر حل ممکن ہے۔