دولت مندوں کی محفلوں میں امیر افراد کا جمع ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ نہ ہی ایسی تقریبات میں عام آدمی کی کوئی خاص دلچسپی ہوتی ہے۔
لیکن واشنگٹن کے وائٹ ہاؤس میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے اعزاز میں ہونے والا عشائیہ اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بن گیا جب ایک غیر متوقع سیلفی نے پوری دنیا میں دھوم مچا دی۔یہ سیلفی معمولی تصویر نہیں تھی؛ اس میں موجود افراد کی مجموعی دولت 700 ارب ڈالر سے زیادہ بتائی گئی — اور یوں یہ تاریخ کی ’’سب سے مہنگی سیلفی‘‘ قرار پائی۔
وائٹ ہاؤس میں منفرد شام — سیاست، دولت، ٹیکنالوجی اور کھیل ایک فریم میں
وائٹ ہاؤس کا ایسٹرن روم ہمیشہ سے دنیا کے اہم مہمانوں کا مرکز رہا ہے، لیکن اس شام کی چمک جدا تھی۔سعودی ولی عہد نہ صرف اہم ترین عالمی رہنما ہیں بلکہ اربوں ڈالر کے ممکنہ سرمایہ کاری مواقع کے بھی مالک سمجھے جاتے ہیں—اسی لیے امریکہ کے بڑے بڑے بزنس ٹائیکونز اور ٹیک ورلڈ کے ستارے اس عشائیے میں خصوصی دعوت پر شریک ہوئے۔اس گہماگہمی کے دوران اصل سرخی اس وقت بنی جب النصر فٹبال کلب کے سپر اسٹار کرسٹیانو رونالڈو نے اپنا فون نکالا اور ایک تاریخی سیلفی لی۔پس منظر میں امریکی میرینز کا لیجنڈری بینڈ، سامنے وائٹ ہاؤس کی شان دار سجاوٹ اور درمیان میں دنیا کی چند امیر ترین شخصیات — یہ لمحہ فوراً وائرل ہو گیا۔
سیلفی میں کون کون تھا؟
العربیہ نیوز کے مطابق، رونالڈو کی یہ تصویر ایک غیر معمولی امتزاج تھی، کیونکہ اس میں شامل افراد مختلف دنیاؤں کی طاقتور شخصیات تھیں:
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان
ٹیسلا و اسپیس ایکس کے سی ای او ایلون مسک
اوپن اے آئی کے شریک بانی گریگ بروک مین
وائٹ ہاؤس کے اے آئی و کرپٹو زار ڈیوڈ ساکس
ایف آئی ایف اے کے صدر گیانی انفنٹینو
امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک
کرسٹیانو رونالڈو اور ان کی پارٹنر جارجینا روڈریگز
اسی لئے ماہرین نے اس تصویر کا موازنہ 2014 کی آسکر سیلفی سے کیا، جس نے اس وقت انٹرنیٹ پر ریکارڈ بنایا تھا۔مگر یہ نئی سیلفی سیاسی اثر، سرمایہ کاری کے امکانات، ٹیکنالوجیکل طاقت اور کھیلوں کی دنیا—سب کو ایک ہی فریم میں سمیٹنے کے لحاظ سے اس سے کہیں زیادہ طاقتور ثابت ہوئی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا رونالڈو سے مزاحیہ شاؤٹ آؤٹ
ڈنر کے دوران صدر ٹرمپ نے مسکراتے ہوئے اعتراف کیا کہ ان کا بیٹا بیرن رونالڈو کا بڑا مداح ہے۔انہوں نے ہنستے ہوئے کہا:“میرے بیٹے بیرن نے آج رونالڈو سے ملاقات کر لی، اور مجھے لگتا ہے کہ اب وہ اپنے والد کی کچھ زیادہ قدر کرتا ہے۔”یہ لمحہ بھی میڈیا میں خوب گردش کرتا رہا۔
رونالڈو — اب صرف فٹبال اسٹار نہیں، سعودی وژن کے برانڈ ایمبیسیڈر
رونالڈو کی النصر سے وابستگی پہلے ہی عالمی فٹبال میں ایک زبردست موڑ تھی۔لیکن اب انہیں سعودی عرب کے وژن 2030 اور ولی عہد کی جدید کاری کی کوششوں کا غیر سرکاری سفیر سمجھا جاتا ہے۔ان کی موجودگی نے عشائیے کی اہمیت میں مزید اضافہ کیا—اور لی گئی سیلفی نے اسے عالمی سطح پر یادگار بنا دیا۔