وزیرِ داخلہ سندھ ضیاء لنجار نے کراچی میں حالیہ مظاہروں کے دوران پیش آنے والے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر مظاہرین پُرامن تھے تو 8 موٹر سائیکلیں کیسے جلیں اور 8 پولیس اہلکار زخمی کیسے ہوئے؟کراچی میں دھرنوں کے حوالے سے وزیرِ داخلہ سندھ، آئی جی سندھ اور کراچی پولیس چیف نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ اس موقع پر ضیاء لنجار نے پارا چنار واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہاں امداد بھی بھیجی گئی ہے اور خیبر پختونخوا کی حکومت کو پارا چنار کا مسئلہ حل کرنا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے سے کراچی کی سڑکیں بلاک ہیں، جس کی وجہ سے لوگ اسپتال نہیں جا پا رہے تھے۔ سندھ حکومت غم میں شریک ہے، لیکن اس کا حل سڑکوں کی بندش اور تشدد نہیں ہے۔
ضیاء لنجار نے بتایا کہ علماء کرام نے کہا کہ کچھ نوجوان نہیں مان رہے، لیکن ان کی آفرز کو ٹھکرا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایم ڈبلیو ایم کے بعد دیگر گروپوں نے بھی روڈ بلاک کرنے کے اعلانات شروع کر دیے، جس سے شہریوں کو تکلیف ہو رہی ہے۔وزیرِ داخلہ سندھ نے کہا کہ ہم پارا چنار کی صورتِ حال پر غمزدہ ہیں اور وہاں حالات بہتر بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہاں سڑکیں بند کر دی جائیں اور تشدد کا راستہ اختیار کیا جائے۔ منتظمین کو احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے جگہ دینے کی پیشکش کی گئی تھی۔