والد کی علالت کے دوران بھی ملک کے حالات کے بارے میں فکرمند رہتے تھے: فیصل زاہد ملک‘لاہور پریس کلب میں منعقدہ تقریب میں خطاب
لاہور (خصوصی رپورٹر) لاہور پریس کلب (ایل پی سی) میں روزنامہ پاکستان آبزرور کے بانی چیف ایڈیٹر مرحوم زاہد ملک (ستارہ امتیاز) کی صحافتی و قومی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک تقریب منعقد ہوئی۔ مقررین نے کہا زاہد ملک کثیرالجہتی شخصیت کے مالک تھے۔ وہ نہ صرف کہنہ مشق صحافی تھے بلکہ مصنف، انسانی حقوق کے علمبردار، محبِ وطن پاکستانی اور مذہبی اسکالر بھی تھے۔ تقریب کا اہتمام لاہور پریس کلب کی طرف سے کیا گیا جس میں پاکستان آبزرور کے موجودہ ایڈیٹر اِن چیف و چیئرمین، فیصل زاہد ملک مہمانِ خصوصی تھے جبکہ معروف تجزیہ کار اور سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی نے صدارت کے فرائض انجام دیے۔ مقررین میں قائم مقام صدر ایل پی سی افضل طالب، پنجاب پریس گیلری کمیٹی کے صدر خواجہ نصیر احمد، پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے سیکرٹری جنرل قمرالزمان بھٹی، فوٹو جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر سید پرویز الطاف اور سابق سینئر نائب صدر ایل پی سی امجد عثمانی شامل تھے۔ مرحوم کے اہلِ خانہ نے بھی تقریب میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ زاہد ملک نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو متعارف کرانے اور ان کا دفاع کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ انہوں نے پاک چین دوستی کو مستحکم بنانے میں بھی نمایاں خدمات سرانجام دیں۔ شامی نے کہا کہ اگرچہ زاہد ملک نرم مزاج انسان تھے لیکن اپنے مؤقف پر ہمیشہ مضبوطی سے قائم رہے۔فیصل زاہد ملک نے کہا کہ ان کے والد کشمیر اور فلسطین کے مسئلے پر ایک توانا آواز تھے۔ انہوں نے بتایا کہ مرحوم کی ڈاکٹر اے کیو خان کے ساتھ گہری وابستگی تھی۔ اپنے والد کی تصنیف ڈاکٹر قادر اور اسلامی بم کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس موضوع پر ہونے والی بیشتر تحریریں اسی کتاب سے متاثر ہیں۔ فیصل نے بتایا کہ زاہد ملک کو سرکاری راز ایکٹ کے تحت مقدمات اور گرفتاری کا بھی سامنا کرنا پڑا کیونکہ وہ صحافتی اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں تھے۔