تعلیمی اداروں میں بھرتی ،ملازمین کا جنسی جرائم کاریکارڈ دیکھنے کی تجویز

گرائونڈ چیکس سے سابقہ ریکارڈ سامنے نہیں آتا، بھرتی تعلیمی ادارے کیلئے خطرہ ہے
موجودہ ملازمین کی بھی نادرا سیکس آفینڈر سے تصدیق، بچوں کے تحفظ کویقینی بنایاجاسکے
لاہور(آئی این پی ) پنجاب میں  تعلیمی اداروں میں بھرتی ہونے  پر ملازمین کا جنسی جرائم کا ریکارڈ دیکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔  رپورٹ  کے مطابق پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے  تعلیمی اداروں میں بھرتی ہونے پر ملازمین کے سیکس آفینڈرز  رجسٹرسے ویریفکیشن کے لئے سیکرٹری پراسیکیوشن کو 2 صفحات کا مراسلہ بھجوایا ہے۔پراسیکیوٹر جنرل نے مراسلے میں کہا کہ  تعلیمی اداروں میں بھرتی پرسیکس آفینڈر ریکارڈ دیکھنا ضروری ہے،  نادرا سیکس آفینڈرز رجسٹر تعلیمی اداروں میں بچوں کی حفاظت کا موثر ذریعہ ہے، بچوں کی حفاظت کے لئے  موجودہ بھرتی نظام میں بڑا خلا موجود ہے۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ موجودہ بیک گرائونڈ چیکس سے جنسی جرائم کا سابقہ ریکارڈ سامنے نہیں آتا، جنسی مجرموں کی بھرتی پورے تعلیمی ادارے کیلئے خطرہ بن سکتی ہے، محکمہ قانون و انصاف سیکس آفینڈر رجسٹرتک رسائیکیلئے  میکینزم بنائے۔پراسیکیوٹر جنرل نے مراسلے میں درخواست کی کہ  تمام تعلیمی اداروں کے لئے سیکس آفینڈر ویریفکیشن لازمی قراردی جائے، موجودہ ملازمین کی بھی نادرا سیکس آفینڈر رجسٹر سے تصدیق کی جائے، اس پالیسی سے تعلیمی اداروں میں بچوں کے تحفظ کویقینی بنایاجاسکے گا۔