ویب ڈیسک:معروف بھارتی موسیقار و گلوکار اے آر رحمٰن اور ان کی اہلیہ سائرہ بانو کے درمیان علیحدگی کے اعلان کے بعد اے آر رحمٰن کا پہلا ردِعمل سامنے آیا ہے۔
گلوکار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر دل برداشتہ انداز میں پوسٹ شیئر کی، جس میں انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید تھی کہ وہ 30 برس تک اپنی شادی شدہ زندگی کو بھرپور طریقے سے گزاریں گے، مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا اور ان کا رشتہ ایک غمگین انجام تک پہنچا۔اے آر رحمٰن نے لکھا کہ "ٹوٹے ہوئے دلوں کے بوجھ سے خدا کا تخت بھی کانپ سکتا ہے، لیکن پھر بھی اس میں ہم کوئی نہ کوئی بہتری، اس کا مقصد تلاش کر سکتے ہیں۔" گلوکار نے اس پوسٹ میں اپنے دوستوں، احباب اور پرستاروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس مشکل وقت میں ان کی ذاتی زندگی کا احترام کیا اور راز داری کو برقرار رکھا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا، "ہماری زندگی کے اس نازک دور میں ہماری راز داری کا احترام کرنے اور ہم پر مہربانی کرنے کے لیے آپ کا بہت بہت شکریہ۔"
دوسری جانب سائرہ بانو نے علیحدگی کے فیصلے پر عوام کو آگاہ کیا تھا اور کہا کہ یہ فیصلہ ان کے جذباتی دباؤ کی وجہ سے لیا گیا ہے۔ سائرہ بانو نے اپنے بیان میں عوام سے درخواست کی کہ وہ اس مشکل دور میں ان کے فیصلے کا احترام کریں اور انہیں سکون سے زندگی گزارنے دیں۔ سائرہ بانو کی وکیل وندنا شاہ نے بھی اس علیحدگی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کئی سال کی شادی کے بعد سائرہ نے اپنے شوہر سے علیحدگی کا مشکل فیصلہ کیا ہے، جو ان کے تعلقات میں پیدا ہونے والے جذباتی تناؤ کی وجہ سے تھا۔یاد رہے کہ اے آر رحمٰن اور سائرہ بانو کی شادی 1995 میں ہوئی تھی اور ان کے تین بچے ہیں۔ دونوں کے تعلقات میں موجود مشکلات نے اس علیحدگی کا سبب بننے والے گہرے فرق کو پیدا کیا ہے جسے وہ فی الحال ختم نہیں کر پا رہے ہیں۔