اعلی عدلیہ کے ججوں کی پارلیمنٹ میں تقاریر کیخلاف درخواست عدم پیروی پر خارج‘ایک واقعہ پر 2 ایف آئی آرز کے اندراج کی درخواست بھی خارج کردی گئی
ہرکیس آئینی بینچ میں نہ بھیجیں:جسٹس مظہر‘ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد اب فل کورٹ نہیں رہا، 7رکنی آئینی بینچ کو ہی فل کورٹ سمجھا جائے: جسٹس جمال مندوخیل کے ریمارکس
اسلام آباد (آئی این پی )سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف درخواست خارج کردی۔ جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف درخواست محمود اختر نقوی نے دائر کی تھی۔ آئینی بنچ نے اعلی عدلیہ کے ججز کی پارلیمنٹ میں تقاریر کے خلاف درخواست عدم پیروی پرخارج کر دی۔ آئینی بنچ نے ایک واقعے پر 2 ایف آئی آرز کے اندراج کے کیس کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دی۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا ہے ایسے کیسز کے باعث زیر التوا کیسز کی تعداد 60 ہزار ہو چکی ہے، ہمیں 60 ہزار زیر التوا کیسز بار بار یاد کرائے جاتے ہیں، کیوں نہ آپ کی درخواست جرمانے کے ساتھ خارج کریں؟ آپ تو پیشے سے وکیل ہیں، آپ بھی ایسے کیسز کریں گے؟۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ صغری بی بی کیس میں عدالت فیصلہ دے چکی ہے، دوسری ایف آئی آر کے اخراج کے لیے ہائی کورٹ کیوں نہیں گئے؟دریں اثناء جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے آئینی بینچ کو بھیجے گئے 2 مقدمات ریگولر بینچ کو واپس بھیج دئیے گئے۔جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ نے سعید کھوسہ بنام وزارت پیٹرولیم کیس کی سماعت کی۔وکیل درخواست گزار نے کہا تین رکنی ریگولر بینچ نے کیس آئینی بینچ میں بھیجا تھا۔ جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ میں ریگولر بینچ کا حصہ تھی، وکیل کی استدعا پر آئینی بینچ میں کیس بھیجا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ایسے ہر کیس آئینی بینچ نہ بھیجیں، اگر کسی کیس میں آئینی سوال ہو تو اسے بھیجیں۔ عدالت نے کیس دوبارہ ریگولر بینچ کو بھیج دیا۔جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے 23 اکتوبر کو مقدمہ آئینی بینچ بھیجا تھا۔ جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی بھی بینچ کا حصہ تھے۔ آئینی بینچ نے ہا ئوسنگ سوسائٹی سے متعلق کیس بھی ریگولر بینچ کو بھیج دیا۔جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ مقدمات کبھی ایک بینچ تو کبھی دوسرے بینچ جا رہے ہیں، دوسرے فریق کے وکیل نے استدعا کی تھی کہ کیس آئینی بینچ کو بھیجیں۔ آئینی بنچ نے گھی ملز پر ٹیکس سے متعلق کیس میں وفاق سمیت تمام صوبوں کو نوٹس جاری کردیئے، جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ بلوچستان ہائیکورٹ میں کیس پر فیصلہ دے چکا ہوں،میرے خیال میں مجھے کیس کی سماعت نہیں کرنی چاہئے۔ سپریم کورٹ کے آئینی بنچ میں گھی ملز پر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 7رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ بلوچستان ہائیکورٹ میں کیس پر فیصلہ دے چکا ہوں،میرے خیال میں مجھے کیس کی سماعت نہیں کرنی چاہئے،وکیل درخواستگزار نے کہاکہ اس کیس میں فل بنچ کا فیصلہ ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا 26ویں آئینی ترمیم کے بعد اب فل کورٹ نہیں رہا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ 7رکنی آئینی بنچ کو ہی اب فل کورٹ سمجھا جائے،آئینی بنچ نے وفاق سمیت تمام صوبوں کو نوٹس جاری کردیئے ۔عدالت نے کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی کردی ۔