امیدواروں کی مرضی ہے سیاسی جماعت میں شامل ہوں یا نہ ہوں: جسٹس جمال مندوخیل‘ مستقبل میں کسی اور مقدمے میں ججوں کی سینیارٹی کا معاملہ طے کریں گے:جسٹس فرخ عرفان
کرپٹ سرکاری عہدیداروں کی برطرفی بارے درخواست ناقابل سماعت قرار د ے کر خارج ‘ کیا صدر، وزیراعظم سمیت سب کو نکال دیں؟ جسٹس جمال کے ریمارکس
اسلام آباد(آئی این پی )سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے سنی اتحاد کونسل کو پارلیمانی جماعت قرار دینے کے خلاف درخواست پر رجسڑار آفس کے اعتراضات برقرار رکھتے ہوئے خارج کر دی۔جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ نے درخواست پر سماعت کی۔مولوی اقبال حیدر نے کہا کہ میری جانب سے درخواست بروقت دائر کی گئی تھی، اب نظر ثانی کیس زیر التوا ہے، چاہتا ہوں کہ کسی مقدمے میں اس معاملے کو دیکھا جائے۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے نے کہا کہ آپ ہم سے غیر آئینی کام کیوں کروانا چاہتے ہیں، امیدواران کی مرضی ہے سیاسی جماعت میں شامل ہوں یا نہ ہوں۔سربراہ آئینی بینچ جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دئیے کہ مولوی اقبال صاحب آپ پھر اسی طرف جا رہے ہیں جس وجہ سے پابندی لگی تھی۔عدالت نے درخواست پر رجسڑار آفس کے اعتراضات برقرار رکھتے ہوئے درخواست خارج کر دی۔ آئینی بینچ نے تمام کرپٹ سرکاری عہدیداران کو برطرف کرنے سے متعلق درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دی۔جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس میں کہا کہ آپ کی درخواست میں استدعا ہے کہ تمام سرکاری ملازمین کام نہیں کرتے انہیں فارغ کریں، آپ ان سرکاری افسروں کی نشاندہی کریں اور متعلقہ اداروں سے رجوع کریں۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ نے اپنی درخواست میں کسی سرکاری آفیسر کا نام تک نہیں لکھا۔جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دئیے کہ آپ کا کونسا کام نہیں ہوا عدالت کو بتائیں! اس کا کیا مطلب ہے ہم صدر، وزیر اعظم، اسپیکر اور پارلیمنٹیرینز سب کو نکال دیں۔ دریں اثناء جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ نے لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی سینیارٹی کے حوالے سے جسٹس فرخ عرفان خان کی درخواست پر سماعت کی۔آئینی بینچ نے نظر ثانی درخواست غیر موثر ہونے کی بنیاد پر نمٹاتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ مستقبل میں کسی اور مقدمے میں سینیارٹی کے اصول کا معاملہ طے کریں گے۔سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے سائلین کو سپریم کورٹ تک رسائی نہ ملنے سے متعلق درخواست خارج کردی