امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگی صورتحال بہت جلد ختم ہو جائے گی اور امریکا تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
وائٹ ہاؤس میں قانون سازوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران اب معاہدہ کرنا چاہتا ہے کیونکہ وہ اس صورتحال سے تھک چکا ہے۔ ان کے مطابق امریکا کی کوشش ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکا جائے اور خطے میں مزید کشیدگی پیدا نہ ہو۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے اس معاملے میں اہم پیش رفت کی ہے اور امید ظاہر کی کہ مسئلہ جلد خوش اسلوبی سے حل ہو جائے گا۔ ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن کا مقصد ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا میں ریپبلکن اکثریت نے ایک قرارداد کو آگے بڑھانے کے حق میں ووٹ دیا ہے، جس کے تحت ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کو کانگریس کی منظوری سے مشروط کیا جا سکتا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق اس قرارداد کے تحت صدر کو ایران کے خلاف جنگی اقدامات جاری رکھنے کے لیے کانگریس سے باقاعدہ اجازت لینا ہوگی۔دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ کی صورتحال بدستور غیر یقینی ہے، جبکہ عالمی برادری نے ممکنہ جنگی دائرہ کار میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔