ٹک ٹاکر ثناء یوسف کی والدہ نے بیٹی کے قتل کیس کے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انصاف ہوا ہے اور وہ عدالتی فیصلے پر مطمئن ہیں۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ تمام افراد کی شکر گزار ہیں جنہوں نے اس مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا۔ ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے قتل کیس میں اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے فیصلہ سنا دیا ہے، جس کے مطابق ملزم عمر حیات کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد افضل مجوکہ نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کو قتل کے الزام میں سزائے موت جبکہ ڈکیتی اور گھر میں گھسنے سمیت دیگر دفعات کے تحت مجموعی طور پر 20 سال قید اور 24 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی۔فیصلے کے بعد مقتولہ ثناء یوسف کی والدہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالتی فیصلے سے مطمئن ہیں اور انہوں نے انصاف ملنے پر اللہ کا شکر ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مشکل وقت میں ساتھ دینے والوں کے وہ شکر گزار ہیں۔سماعت کے دوران مدعی کے وکیل نے عدالت سے ملزم کو دو مرتبہ سزائے موت دینے کی استدعا بھی کی۔
دوسری جانب ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کیس سے متعلق درخواستیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہیں اور پہلے سے فیصلہ سنانے کا تاثر درست نہیں ہوگا۔دورانِ سماعت ملزم عمر حیات نے صحتِ جرم سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے قتل کا کوئی اعتراف نہیں کیا اور ثناء یوسف سے ان کا کوئی رابطہ نہیں تھا۔ تاہم عدالت نے ریکارڈ اور شواہد کی بنیاد پر فیصلہ سنایا۔یاد رہے کہ ثناء یوسف کو 2 جون 2025 کو اسلام آباد میں ان کے گھر میں قتل کیا گیا تھا، جبکہ ملزم کو اگلے روز جڑانوالہ سے گرفتار کیا گیا۔ کیس میں 31 گواہوں میں سے 27 کے بیانات ریکارڈ کیے گئے اور طویل سماعت کے بعد فیصلہ سنایا گیا۔