امجد علی
میں ربِ ارض و سما و مافیہا کا کروڑہا شکر بجا لاتا ہوں
کہ اس نے ہمیں ربیع الاول کا بابرکت مہینہ عطا فرمایا۔
عشاق کوئے حبیب کے دلوں میں خوشبو بھری کلیاں چٹک رہی ہیں۔
ہجر کی طوالت سے خالی جھونپڑی سی بنی آنکھیں
اب بہار کے نزول پر کھلے ہوئے گلشن کی طرح مہک اٹھی ہیں۔
یہ ربیع الاول کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں آفتابِ ہدایت، رحمتِ عالم، فخرِ موجودات، سیدالانبیاء کی ولادتِ باسعادت کی صبحِ نور طلوع ہوئی۔ یہ ہماری قسمت کا نقطہ عروج ہے کہ ہم پندرہ سوواں جشنِ عید میلاد النبی منانے جا رہے ہیں۔ یہ عشرہ رحمت اہلِ ایمان کے لیے محض مسرت و شادمانی کا موقع نہیں، بلکہ اپنی زندگیاں حضور کی سیرتِ طیبہ کے مطابق ڈھالنے کی تازہ یاد دہانی ہے۔
ماہِ ربیع الاول دراصل وہ موسمِ جانفزا ہے جس میں الفتِ حبیب کے رنگ قلوب کو مہکا دیتے ہیں، اور سیرتِ مصطفی کی نورانی بارش دل و دماغ کی وادیوں کو سیراب کرتی ہے۔ نبی کریم کی ذاتِ اقدس اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے، جس کے بارے میں قرآنِ حکیم نے فرمایا: ’چ بے شک اللہ نے ایمان والوں پر بڑا احسان فرمایا جب ان ہی میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا۔
(اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر۔)
اقبال جیسے فنائے کوچہ رسول کے امتی سے اگر کوئی پوچھے کہ ان کے دل میں سیرتِ مصطفیٰ کی تجلیاتِ منورہ کی کیسی روشنیاں پھیلی ہوئی تھیں، تو جواب انہی کے قلم سے نکلے، ان لازوال اشعار میں ملتا ہے
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں
اللہ رب العزت کو بھی ہر لحظہ ذکرِ مصطفیٰ محبوب ہے۔ ماسوا سب راندہ درگاہ ہے، عرش سے فرش تک ہر اعلیٰ و ادنیٰ زبانِ حال سے انہی کے ترانے گا رہا ہے۔ گلی گلی، کوچہ کوچہ، بستی بستی اور نگر نگر اْنہی کے ذکر سے آباد ہے۔ چاروں طرف مقلدینِ حسان کی نعتوں کی صدائیں فضاؤں میں رس گھولتی گونج رہی ہیں۔
یہ ربیع الاول کا بابرکت مہینہ ہے، آپ کی ولادتِ باسعادت کی نوید لے کر آیا ہے۔ جگہ جگہ دروس جاری ہیں، بیان ہو رہے ہیں، اور ہر سمت محبتِ رسول کے چراغ روشن ہیں۔ در و دیوار جھلمل روشنیوں سے سجے ہوئے ہیں۔ مدینے کی گلیوں سے لے کر مسجدِ نبوی کے میناروں تک، الغرض آپ سے منسوب ہر چیز پر عقیدتوں کا خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ جوشِ خطابت کی محافل ہیں، اور سبھی دل و جان سے مدحتِ سرائی میں محو اور ہمہ تن گوش ہیں۔
سیرت کا پیغامِ عالمگیر
نبی کریم کی زندگی ہر پہلو سے کامل نمونہ ہے۔ بحیثیت بیٹے، آپ ? نے والدین کے ادب و احترام کو اعلیٰ ترین درجہ عطا کیا۔ بحیثیت شوہر، آپ نے ازواجِ مطہرات کے ساتھ محبت، شفقت اور عدل کا عملی نمونہ پیش کیا۔ بحیثیت تاجر، آپ نے دیانت اور سچائی کو بنیاد بنایا۔ بحیثیت حاکم، آپ نے عدل، مساوات اور انسان دوستی کی مثالیں قائم کیں۔ اور بحیثیت معلم، آپ نے امت کو قرآن و سنت کی روشنی عطا کی۔
یہ ایام ہمیں محض چراغاں، نعت خوانی اور میلاد کی محفلوں تک محدود نہیں کرتے بلکہ ہمیں یہ عہد بھی یاد دلاتے ہیں کہ ہم حضور کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کریں۔ نبی کریم نے فرمایا
(تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہے۔)
یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اصل محبتِ رسول اطاعت اور اتباع میں پوشیدہ ہے۔
آج دنیا انتشار، ناانصافی اور بے سکونی کا شکار ہے۔ نفرتوں اور تعصبات نے انسانیت کو زخموں سے چور کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں سیرتِ رسول ? ہمیں امن، برداشت، رواداری اور عدل و انصاف کا راستہ دکھاتی ہے۔ اگر ہم نے سیرتِ نبوی کو حقیقی معنوں میں اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا تو ہمارے گھروں میں سکون، معاشروں میں عدل اور دنیا میں امن قائم ہو جائے گا۔ اگر ہم اپنے نبی کے سچے امتی بن جائیں تو یثرب جیسا معاشرہ مدینہ کی صورت اختیار کر سکتا ہے، اور ظلم و جبر کے پیچھے چھپا کفر کا چہرہ بھی اشکار ہو کر مٹ کر مکہ کی مانند امن کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
عشرہ ربیع الاول ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ نبی کریم سے محبت کا حقیقی تقاضا یہی ہے کہ ہم اپنی سوچ، کردار اور عمل کو آپ کی تعلیمات کے مطابق ڈھال لیں۔ اکمل اتباع سیرت ہی سب سے بڑا میلاد اور یہی خالص عقیدت کا رنگ ہے۔
اللّٰہ ہمیں نبی کریم کی سیرت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، ہماری زندگیوں کو قرآن و سنت کا آئینہ بنائے اور ہمیں دنیا و آخرت میں حضور کی شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین۔
رب کائنات سے دعاء ہے وہ ہمیں، ہماری جاں سے عزیز نبی مکرم، رحمت لقب، فخر عجم، شان عرب، فضل اتم، سرور زیہشتم، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم، کے کوچوں میں کشتہ شمع رسالت، فدائے کوئے رسالت مآب بن کر ایسے طواف کی توفیق عطاء کرے کہ وہیں خاک مدینہ بن جائیں اور قبولیت در شاہ امم شامل عطاء ہو جائے۔
کہ یہی بقاء ہے، یہی جنت ہے اسی میں خوشنودی الہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔آمد مصطفے' مرحبا مرحبا۔۔۔۔۔۔۔۔