حافظ عبدالرؤف
قومی تاریخ میں بعض ایام اور بعض مہینے ایسے ہوتے ہیں جو صرف تقویم کا حصہ نہیں رہتے بلکہ وہ قوموں کی زندگی میں سنگِ میل کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ مئی کا مہینہ بھی پاکستانی قوم کے لیے ایک عظیم تاریخی اور قومی اہمیت کا حامل مہینہ بن چکا ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں اللہ رب العزت نے پاکستان کو ایک عظیم کامیابی، مضبوط دفاع اور ناقابلِ تسخیر قوت عطا فرمائی۔ یہی وجہ ہے کہ آج پوری قوم عشر تشکر منا رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ شکر بجا لا رہی ہے۔یہ عشرہ دراصل اس حقیقت کا مظہر ہے کہ پاکستان صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک عقیدہ اور ایک عظیم مقصد کے تحت وجود میں آنے والی اسلامی ریاست ہے۔ جب قومیں اپنے نظریات سے جڑ جائیں، اپنے شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھیں اور اپنے وطن کے دفاع کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھیں تو اللہ تعالیٰ بھی ان پر اپنی خصوصی رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ پاکستان کی حالیہ کامیابیاں اسی الٰہی نصرت کا واضح ثبوت ہیں۔
گزشتہ برس اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو دفاعی میدان میں جو عزت، وقار اور قوت عطا فرمائی، اس نے پوری دنیا پر واضح کر دیا کہ پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے۔ دشمن کی ہر سازش ناکام ہوئی، ہر جارحانہ عزائم کو منہ توڑ جواب ملا اور پوری قوم کا سر فخر سے بلند ہوا۔ یہ کامیابی صرف عسکری کامیابی نہیں بلکہ قومی وحدت اور نظریاتی وابستگی کی فتح بھی ہے۔
اس موقع پر یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان کی بہادر افواج، خصوصاً پاک فضائیہ کے شاہینوں نے جس جرات، مہارت اور قربانی کا مظاہرہ کیا وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء پوری قوم کا فخر ہیں۔ ان شہداء نے اپنے خون سے اس دھرتی کی حفاظت کی اور آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دیا کہ وطن کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
آج جب ہم عشرہ تشکر بسلسلہ معرکہ حق منا رہے ہیں تو یہ صرف خوشی کا ہی موقع نہیں بلکہ اپنے عہد کی تجدید کا بھی وقت ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ پاکستان کی بقا صرف مضبوط ہتھیاروں سے نہیں بلکہ مضبوط قوم، مستحکم نظریے اور باہمی اتحاد سے وابستہ ہے۔ اگر قوم اندرونی طور پر تقسیم کا شکار ہو جائے، نفرتیں بڑھ جائیں اور ذاتی مفادات قومی مفادات پر غالب آ جائیں تو بیرونی قوتیں آسانی سے نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اسی لیے آج سب سے اہم ضرورت قومی اتحاد، نظریاتی یکجہتی اور داخلی استحکام کی ہے۔
یہ ایک خوش آئند امر ہے کہ مختلف طبقاتِ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ اس موقع پر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو رہے ہیں اور یہ پیغام دے رہے ہیں کہ دفاعِ وطن کے معاملے پر پوری قوم متحد ہے۔ یہ فتح کسی ایک جماعت، ادارے یا شخصیت کی نہیں بلکہ 25 کروڑ عوام کی مشترکہ کامیابی ہے۔ اس کامیابی میں فوج، عوام، نوجوانوں، میڈیا اور ہر اس فرد کا کردار شامل ہے جس نے پاکستان کی سلامتی کو اپنی ترجیح سمجھا۔
مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے عشر? فتح و تشکر کے سلسلے میں ملک بھر میں پروگراموں، آل پارٹیز کانفرنسز، عظیم الشان ریلیوں، سیمینارز اور خطباتِ جمعہ کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جن کا مقصد قوم میں اتحاد، حب الوطنی، نظریاتی شعور اور دفاعِ وطن کے جذبے کو مزید مضبوط کرنا ہے۔ مختلف شہروں میں منعقدہ تقریبات میں سیاسی، مذہبی، سماجی اور عوامی حلقوں کی بڑی تعداد شریک ہو رہی ہے، جبکہ خطباتِ جمعہ میں علماء کرام وطن کے دفاع، شہداء کی قربانیوں اور قومی یکجہتی کی اہمیت کو اجاگر کر رہے ہیں۔ مرکزی مسلم لیگ یہ پیغام دے رہی ہے کہ پاکستان کی سلامتی، استحکام اور نظریاتی تحفظ کے لیے پوری قوم ایک ہے، اور یہی اتحاد دشمن کی ہر سازش کو ناکام بنانے کی اصل قوت ہے۔ یہ سرگرمیاں نوجوان نسل کو اپنی تاریخ، اپنی ذمہ داریوں اور اپنے قومی تشخص سے آگاہ کرنے میں اہم کردار ادا کر یں گی۔
درحقیقت قوموں کی اصل طاقت ان کے نظریاتی استحکام میں ہوتی ہے۔ پاکستان کا قیام بھی کلم? طیبہ کی بنیاد پر عمل میں آیا تھا اور اس کی حفاظت بھی اسی نظریاتی وابستگی سے ممکن ہے۔ اگر ہم اپنے نظریے کو بھلا دیں، آپسی اختلافات کو بڑھاوا دیں اور قومی وحدت کو کمزور کر دیں تو دشمن کو موقع مل سکتا ہے۔ لیکن اگر پوری قوم ایک آواز بن جائے، ایک مقصد پر متحد ہو جائے اور دفاعِ وطن کو ایمان کا حصہ سمجھ لے تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
پاکستان کو اس وقت بیرونی چیلنجز کے ساتھ ساتھ اندرونی مسائل کا بھی سامنا ہے۔ معاشی مشکلات، سیاسی کشیدگی، سماجی تقسیم اور اخلاقی بحران جیسے مسائل قوم کے اجتماعی استحکام کو متاثر کرتے ہیں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی پاکستانی قوم نے اتحاد کا مظاہرہ کیا، اللہ تعالیٰ نے اسے کامیابی عطا فرمائی۔ آج بھی اگر ہم نفرتوں کی خلیج ختم کر دیں، ذاتی مفادات کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دیں اور ایک قوم بن کر آگے بڑھیں تو پاکستان نہ صرف دفاعی میدان میں بلکہ معاشی، سیاسی اور علمی میدانوں میں بھی دنیا کی قیادت کر سکتا ہے۔
پاکستان محض ایک جغرافیائی ریاست نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کی امیدوں، امنگوں اور اجتماعی احساسات کا مرکز بھی ہے۔ عالمِ اسلام آج جن چیلنجز، سازشوں اور مظالم کا سامنا کر رہا ہے، خصوصاً فلسطین، کشمیر اور دیگر مسلم خطوں میں جاری ظلم و جبر کے تناظر میں پاکستان کی مضبوطی اور استحکام مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ پاکستان کا ناقابلِ تسخیر دفاع صرف اس کے اپنے تحفظ کی ضمانت نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے اعتماد اور حوصلے کی علامت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب پاکستان مضبوط ہوتا ہے تو عالمِ اسلام میں امید کی ایک نئی کرن پیدا ہوتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنے نظریاتی تشخص اور اسلامی وحدت کے پیغام کو مزید مضبوط کرے تاکہ امتِ مسلمہ کے اتحاد اور وقار کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی اختلافات کو دشمنی میں تبدیل نہ کیا جائے۔ مختلف جماعتیں، مختلف آراء اور مختلف نظریات جمہوری معاشروں کا حصہ ہوتے ہیں، لیکن جب بات پاکستان کی سلامتی، نظریاتی اساس اور دفاع کی ہو تو پوری قوم کو ایک صف میں کھڑا ہونا چاہیے۔ یہی پیغام عشر? تشکر کا اصل پیغام ہے۔یہ عشرہ ہمیں اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر صرف الفاظ سے ادا نہیں ہوتا بلکہ عملی اقدامات سے بھی ادا کیا جاتا ہے۔ اگر ہم واقعی اللہ کے شکر گزار بننا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے وطن کی تعمیر، قومی اتحاد، دیانت داری، قانون کی پاسداری اور اجتماعی ذمہ داریوں کو اپنانا ہوگا۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو یہ سکھانا ہوگا کہ پاکستان ایک عظیم نعمت ہے اور اس کی حفاظت ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
مئی کا یہ عشرہ ایک پیغام ہے؛ اتحاد کا پیغام، نظریاتی استحکام کا پیغام، دفاعِ وطن کے عزم کا پیغام اور اللہ تعالیٰ کے حضور شکر گزاری کا پیغام۔ اگر ہم اس پیغام کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنا لیں تو پاکستان نہ صرف ناقابلِ تسخیر دفاعی قوت رہے گا بلکہ دنیا کی عظیم اور باوقار اقوام میں بھی نمایاں مقام حاصل کرے گا۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے، اسے اندرونی و بیرونی دشمنوں سے محفوظ فرمائے اور قوم کو اتحاد، ایمان اور استحکام کی دولت سے مالا مال کرے۔ آمین۔