برطانیہ اور یورپ میں گیس کی قیمتیں بڑھ گئیں، توانائی بحران شدت اختیار کر گیا

برطانیہ اور یورپ میں گیس کی قیمتیں بڑھ گئیں، توانائی بحران شدت اختیار کر گیا

عالمی توانائی منڈی میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سپلائی کے مسائل کے باعث سامنے آیا ہے۔

خاص طور پر قطر کے راس لفان گیس پلانٹ پر حالیہ حملے اور خلیجی ممالک میں توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے واقعات نے عالمی مارکیٹ میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔رپورٹس کے مطابق برطانیہ اور یورپ میں گیس کی قیمتیں تقریباً 60 فیصد تک بڑھ گئی ہیں، جس سے صارفین اور صنعتوں پر مہنگائی کے اثرات واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں نہ صرف بجلی اور گیس بلوں میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں بلکہ عالمی معیشت میں مہنگائی کو بھی فروغ دے رہی ہیں۔ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے، جس کے باعث توانائی کی سپلائی کی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دی ہے، جس سے خطے میں مزید ممکنہ تنازعات کے خدشات بھی پیدا ہوئے ہیں۔ماہرین کے مطابق اگر یہ صورتحال جاری رہی تو نہ صرف تیل اور گیس کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی مارکیٹ میں مہنگائی کی شرح میں بھی اضافہ متوقع ہے، جس کا اثر روزمرہ کی اشیاء اور صنعتی پیداوار پر پڑ سکتا ہے۔یہ بحران واضح کرتا ہے کہ توانائی کی سپلائی اور جیوپولیٹیکل کشیدگی عالمی معیشت پر کس حد تک اثر انداز ہو سکتی ہیں۔