پنجاب حکومت نے صوبے میں پہلا سکل سٹی قائم کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے، جس کی منظوری وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے ایک خصوصی اجلاس میں دی۔
یہ منصوبہ صوبے کے نوجوانوں کو میٹرک کے بعد عملی اور فنی تعلیم فراہم کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔اجلاس میں میٹرک لیول ٹیکنیکل ایجوکیشن اور سکول بیسڈ سکلڈ ڈویلپمنٹ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔سکل سٹی پراجیکٹ کے لیے جامع تجاویز اور منصوبہ طلب کر لیا گیا۔پنجاب بھر میں موجود سکل ایجوکیشن کے اداروں کو سینٹر آف ایکسی لینس میں تبدیل کیا جائے گا۔
ٹیکنیکل ووکیشنل ایجوکیشن بورڈ کو اسکاٹ لینڈ اور برطانیہ کے اداروں سے الحاق کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
کورسز اور تربیت:
اس پروگرام کے تحت نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق عملی تعلیم دی جائے گی، جس میں درج ذیل شعبے شامل ہیں:
گرافک ڈیزائننگ، میڈیا پروڈکشن، فیشن ڈیزائننگ
ڈیٹا کوڈنگ، ٹورازم، انڈسٹریل الیکٹرکیشن
پلمبنگ، سولر واٹر ہیٹنگ سسٹم
پروفیشنل شیف، الائیڈ ہیلتھ اور دیگر جدید شعبے
مریم نواز شریف نے ہدایت دی کہ بہترین اساتذہ کی خدمات حاصل کی جائیں اور صنعتی اداروں کے ماہرین کے ساتھ نصاب تیار کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پنجاب کا ہر نوجوان ہنرمند اور اپنے فن میں یکتا ہو۔اس پروگرام کے ذریعے صوبے کی یوتھ فورس کو ٹیکنیکل ایجوکیشن کے ذریعے مضبوط اور عملی شعبوں کے قابل بنایا جائے گا۔یہ منصوبہ نوجوانوں کو نہ صرف عملی ہنر سکھانے بلکہ انہیں روزگار کے مواقع سے ہم آہنگ کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے، تاکہ وہ میٹرک کے بعد ہی معاشی طور پر خود مختار اور صنعت کی ضرورت کے مطابق تربیت یافتہ بن سکیں۔