کسان کو براہِ راست سبسڈی دی جائے، ملک کا حکومتی نظام ناکام ہو چکا ہے:مفتاح اسماعیل

کسان کو براہِ راست سبسڈی دی جائے، ملک کا حکومتی نظام ناکام ہو چکا ہے:مفتاح اسماعیل

سابق وفاقی وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے ایک تقریب کے دوران طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی معاشی صورتحال اور حکومتی پالیسیوں پر تبصرہ کیا۔

 انہوں نے کہا کہ پاکستانی کسانوں کو براہِ راست سبسڈی دی جانی چاہیے تاکہ انہیں مناسب مدد فراہم کی جا سکے۔ مفتاح اسماعیل نے وضاحت کی کہ اس وقت کسانوں کی مدد کے لیے فرٹیلائزر فیکٹریوں کو سبسڈی دی جاتی ہے، تاہم اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہماری اجناس سستی ہونے کی وجہ سے افغانستان اور ترکمانستان جیسے ممالک میں منتقل ہو جاتی ہیں، جس سے مقامی کسان کو فائدہ نہیں ملتا۔انہوں نے ملک کی معیشت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں 20 سال سے کوئی بیرونی سرمایہ کاری نہیں آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم فارن انویسٹمنٹ کے بارے میں سوچنا چاہتے ہیں تو پہلے ہمیں یہاں کے مقامی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دینی چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستانی مارکیٹ میں مال فروخت کرنے کے لیے آتے ہیں، لیکن ایسا بیرونی سرمایہ کار ضروری ہے جو پاکستان میں مصنوعات بنائے اور انہیں برآمد کرے۔

مفتاح اسماعیل نے ویتنام کی مثال دی، جہاں ایک موبائل فون کمپنی کی صرف برآمدات 68 ارب ڈالرز تک پہنچ چکی ہیں، اور اس کے لیے کسی وزیرِ اعظم یا اہم شخصیت نے دورہ نہیں کیا۔ اس کے بجائے وہاں کی حکومت نے حالات کو سازگار بنا کر کاروباری ماحول کو بہتر بنایا۔سابق وزیرِ خزانہ نے مزید کہا کہ پاکستان کا حکومتی نظام ناکام ہو چکا ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ بچے پاکستان میں اسکول سے باہر ہیں۔ بھارت میں 11 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں، جبکہ پاکستان میں یہ تعداد 2 کروڑ 65 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جو کہ ملک کی تعلیمی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔