عوام پاکستان پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے حیدرآباد میں پریس کلب کے سامنے ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی کی لڑائی صوبوں سے نہیں بلکہ اشرافیہ کے خلاف ہے۔
انہوں نے پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ بات آج تک سمجھ نہیں آئی کہ پیپلز پارٹی کینال کے منصوبے کے خلاف ہے یا اس کے ساتھ۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے عوام کو بھی آج تک یہ نہیں پتا کہ پیپلز پارٹی کا موقف کیا ہے۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ عوام پاکستان پارٹی چھوٹی ہو سکتی ہے، لیکن جہاں کھڑی ہے، وہاں اس کا موقف سب کو معلوم ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب تک تمام پاکستانی سیاسی جماعتیں کینال کی تعمیر کی اجازت نہیں دیتیں، تب تک یہ منصوبہ نہیں بننا چاہیے۔اس کے علاوہ، میڈیا سے گفتگو میں مفتاح اسماعیل نے کہا کہ چولستان کے معاملے کا فیصلہ سی سی آئی (کاؤنسل آف کامن انٹریسٹ) کرے۔
انہوں نے 2018 میں ہونے والی ایک واٹر پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس پالیسی کے تحت طے کیا گیا تھا کہ 10 ملین ایکڑ فٹ پانی کوٹری بیراج پر چھوڑا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جون تک سندھ میں پانی کی کمی بہت زیادہ ہوتی ہے، جس سے علاقے میں پانی کی قلت اور مسائل بڑھتے ہیں۔یہ تمام باتیں مفتاح اسماعیل نے اپنے موقف کو پیش کرتے ہوئے، پاکستان کے پانی کے مسائل اور سیاسی تناظر میں کیں۔