منافقت ہماری بیٹیوں کو دفن کر رہی ہے

 ملک حبیب الرحمن خان اعوان

 دیر کے علاقے میں ایک غیر مسلم، غیر ملکی عورت ایک غیر محرم مرد سے شادی کرنے کے لیے پاکستان آتی ہے۔ ہمارا میڈیا، سوشل پلیٹ فارمز، اور معاشرے کے کئی حلقے اس کو "بہادری کی علامت" اور "سچی محبت کی فتح" قرار دیتے ہیں۔لیکن اسی علاقے میں ایک باپردہ، باحیا پشتون بیٹی کو محض شک کی بنیاد پر قتل کر دیا جاتا ہے۔کیوں؟شاید کسی نے سوچا کہ وہ اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہتی ہے۔شاید کسی نے اسے کسی مرد سے بات کرتے دیکھ لیا۔
شاید اْس نے صرف اتنا چاہا کہ وہ اپنی زندگی کا فیصلہ خود کرے۔یعنی ایک غیر ملکی عورت جو سرحد پار کر کے آئے، وہ "محبت کی فاتح" کہلائے،اور جو ہماری اپنی بیٹی اپنے شرعی حق کا تقاضا کرے، وہ موت کی سزا پائے؟اور وہ مرد جو غیر مسلم عورت سے "محبت" کی بنیاد پر شادی کرتا ہے، وہی اپنی بہن کو اپنی پسند کی شادی کا حق دینے کو تیار نہیں؟اپنے لیے محبت "غیرت"اور بیٹی کے لیے محبت "فحاشی"؟اپنے لیے حق، اور بہن کے لیے سزا؟یہی وہ سنگین دہرا معیار ہے جو ہمارے معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ اسلام کی تعلیمات کیا ہیں؟ شادی میں عورت کی رضامندی ضروری ہے نبی کریم  نے فرمایا:"کنواری لڑکی کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے۔"(صحیح بخاری: 5136، صحیح مسلم: 1419)اگر وہ خاموش رہے تو یہی رضا مندی سمجھی جائے گی۔یعنی اسلام عورت کو شریکِ زندگی کے انتخاب کا پورا حق دیتا ہے۔ اسلام میں جبر کی اجازت نہیں"دین میں کوئی زبردستی نہیں۔"(سورۃ البقرہ: 256)جب دین جیسے بنیادی معاملے میں زبردستی نہیں، تو نکاح جیسے ذاتی معاملے میں کیسے جائز ہو سکتی ہے؟ غیرت کے نام پر قتل اسلام میں حرام ہے"اور اْس جان کو قتل نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے، مگر حق کے ساتھ۔"اور نبی کریم  نے خطبہ حجتہ الوداع میں فرمایا:
"تمہاری جانیں، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جیسے یہ مہینہ، یہ دن اور یہ شہر حرام ہے۔"(صحیح بخاری، صحیح مسلم)پھر کیسے ایک بیٹی کو محض شک کی بنیاد پر مار دینا جائز ہو سکتا ہے؟ عزت و احترام کا معیار صرف تقویٰ ہے"بیشک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔"
(سورۃ الحجرات: 13)
نہ جنس، نہ حسب نسب — اللہ کے ہاں عزت کا معیار صرف کردار اور تقویٰ ہے۔ لمحہ فکریہ اگر مرد اپنی پسند سے شادی کرے تو "غیرت"اور عورت کرے تو "بے حیائی"؟اگر مرد سگریٹ پئے تو "ماڈرن"اور عورت وہی کرے تو "بدکردار"؟ یہی وہ منافقت ہے جو ہماری اخلاقی تباہی کی بنیاد بن چکی ہے۔ اصل سوال یہ ہے:ایک ایسی فضا میں، جہاں بیٹی کو اس کے اسلامی حق کی قیمت جان سے چکانی پڑے —
کیا کوئی والدین اعتماد سے بیٹی کی پرورش کر سکتے ہیں؟
کیا کوئی نئی نسل کو ایسی سوسائٹی میں لانا چاہے گا جہاں محبت کا انجام قبر ہو، اور غیرت کا مطلب بندوق؟

وقت آ گیا ہے کہ ہم جھوٹی غیرت، قبائلی تکبر، اور جعلی مذہبی تشریح کے بت توڑیں۔
جب تک ہم دین کی اصل تعلیمات — رحمت، عدل، اور عزت — کی طرف رجوع نہیں کرتے،ہم اپنے مستقبل کو اپنے ہی ہاتھوں دفن کرتے رہیں گے۔