پشاور: خیبرپختونخوا کابینہ کا 34 واں اجلاس آج، 28 نکاتی ایجنڈا جاری

پشاور: خیبرپختونخوا کابینہ کا 34 واں اجلاس آج، 28 نکاتی ایجنڈا جاری

خیبرپختونخوا حکومت کا 34 واں کابینہ اجلاس آج وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت پشاور میں ہوگا، جس کے لیے 28 نکاتی ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے۔

 اجلاس میں اہم پالیسی اور ترقیاتی معاملات پر فیصلے متوقع ہیں۔

 کابینہ اجلاس کے اہم نکات:
 قوانین اور ترامیم:
پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ رولز میں تبدیلی کی منظوری دی جائے گی۔این جی اوز سے متعلقہ قوانین میں ترامیم کابینہ کے سامنے پیش کی جائیں گی۔رائٹ ٹو پبلک سروسز ترامیمی بل کابینہ میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
  صحت و بہبود:
شوکت خانم اسپتال کے لیے گرانٹ ان ایڈ کی منظوری ایجنڈے میں شامل۔پروین اختر نامی کینسر کی مریضہ کے علاج کے لیے ایک کروڑ روپے کی مالی امداد زیر غور آئے گی۔
  ترقیاتی منصوبے (ADP):
اسلامیہ کالج ریسرچ سینٹر (2021-22) کی اسکیم شامل۔زمونگ کور کے لیے سوات، ڈی آئی خان، ایبٹ آباد اور پشاور میں نئی اسکیمز کی منظوری دی جائے گی۔منکیال اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی، ہری پور کا قیام ایجنڈے میں شامل۔
  نقل و حمل اور سہولیات:
بی آر ٹی کے لیے مزید بسوں کی خریداری کی منظوری لی جائے گی۔دو فارچونر گاڑیوں کی خریداری کے لیے قانون میں نرمی پر بھی غور ہوگا۔
  ماحولیاتی تحفظ:
چترال (ارندو) میں جنگلات کی غیر قانونی کٹائی روکنے کے لیے میکنزم کے نفاذ پر غور ہوگا۔
  دیگر نکات:
محکمہ انہار میں بند منصوبوں کے لیے فنڈز کی فراہمی پر بحث ہوگی۔کابینہ میں مختلف منصوبوں کے لیے بجٹ کی منظوری اور وسائل کی تقسیم پر بھی گفتگو متوقع ہے۔
 تجزیہ:
یہ اجلاس صوبائی ترقیاتی منصوبوں، عوامی فلاحی اقدامات اور انتظامی بہتری کے لیے اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ خصوصاً صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر اور ماحول سے متعلق ایجنڈے صوبائی پالیسی کا رخ واضح کرتے ہیں۔