ایران: جنرل محمد کاظمی کی شہادت کے بعد نئے انٹیلی جنس چیف کا اعلان

ایران: جنرل محمد کاظمی کی شہادت کے بعد نئے انٹیلی جنس چیف کا اعلان

ایران نے پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس چیف جنرل محمد کاظمی کی شہادت کے بعد تنظیم کے نئے سربراہ کی تقرری کا اعلان کر دیا ہے۔

 ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، جنرل مجید خادمی کو پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی انٹیلی جنس تنظیم کا نیا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے۔

جنرل مجید خادمی کا پس منظر:
خادمی وزارتِ دفاع کے ماتحت انٹیلی جنس پروٹیکشن آرگنائزیشن کے سربراہ رہ چکے ہیں۔انہیں ایران کے دفاعی و انٹیلی جنس ڈھانچے میں وسیع تجربہ حاصل ہے اور وہ IRGC کے اندرونی سیکیورٹی و خفیہ اداروں میں قابلِ اعتماد شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔
 اسرائیلی حملے کی تفصیلات:
پچھلے جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب، اسرائیل نے مبینہ طور پر تہران میں ایک سلسلہ وار حملے کیے جن کا ہدف ایران کی فوجی و انٹیلی جنس قیادت تھی۔یہ حملے انتہائی ہدف شدہ نوعیت کے تھے اور ان کا مقصد ایران کے جوہری اور انٹیلی جنس پروگرامز سے وابستہ افراد کو ختم کرنا بتایا گیا۔

شہداء میں شامل اہم افسران:
جنرل محمد کاظمی – IRGC کے انٹیلی جنس چیف
جنرل حسن محقق – انٹیلی جنس چیف کے نائب
جنرل محسن باقری – جوہری پروگرام اور دفاعی پلاننگ سے وابستہ سینیئر افسر
پاسدارانِ انقلاب نے ان حملوں کی براہِ راست ذمہ داری اسرائیل پر عائد کی ہے اور کہا ہے کہ یہ ایران کے قومی سلامتی پر "اعلانِ جنگ" کے مترادف ہیں۔

 ایران کا ردعمل اور آئندہ حکمت عملی:
ایرانی حکومت نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "اسرائیل کو اس حملے کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔"پاسدارانِ انقلاب کی قیادت نے اعلان کیا ہے کہ ملکی سکیورٹی ادارے حالتِ جنگ میں ہیں اور دشمن کے خلاف بھرپور جوابی کارروائی کی جائے گی۔یہ بھی اطلاعات ہیں کہ تہران میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے، اور اہم تنصیبات کے گرد فوجی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔
 بین الاقوامی تناظر:
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی بڑھ چکی ہے، خصوصاً:

غزہ میں اسرائیلی کارروائیاں
شام، عراق اور لبنان میں ایران نواز ملیشیاؤں پر حملے
امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ مشترکہ دفاعی اقدامات
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے اسرائیل پر براہِ راست جوابی حملے کیے، تو مشرقِ وسطیٰ ایک کھلے تنازع کی طرف جا سکتا ہے۔