پاکستان سولر سے 25 فیصد بجلی بنانے والا دنیا کا پہلا بڑا ملک بن گیا

 جنوری سے اپریل  تک سب سے زیادہ بجلی سولر پینلوں سے بنائی گئی‘10 ہزار میگاواٹ بجلی بنانے والے پینل درآمد کئے گئے:رائٹرز

 اسلام آباد (یواین پی) پاکستان سولر پینلز سے 25 فیصد بجلی بنانے والا دنیا کا پہلا بڑا ملک بن گیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاکستان آبادی کے لحاظ سے بڑے ممالک میں دنیا کا پہلا ملک بن چکا ہے جہاں کل بجلی میں 25 فیصد سے زیادہ سولر پینلز سے پیدا کی جارہی ہے، پاکستان میں سولر پینلز کے اس تیز ترین پھیلاؤ سے نہایت اہم شعبہ توانائی کے بین الاقوامی ماہرین بھی حیرت کا شکار ہیں۔بتایا گیا ہے کہ جنوری تا اپریل 25ء کے چار مہینوں میں پاکستان میں سب سے زیادہ بجلی سولر پینلوں سے ہی بنائی گئی، 2202ء میں پاکستان نے 3 ہزار 500 میگاواٹ بجلی بنانے والے سولر پینل چین اور دیگر ممالک سے درآمد کیے، 2024 ء میں 16 ہزار 600 میگاوٹ بجلی بناتے پینل امپورٹ کیے گئے اور رواں سال کے صرف چار مہینوں میں ہی 10 ہزار میگاواٹ بجلی بنانے والے پینل درآمد کیے گئے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں شمسی توانائی فروغ پا رہی ہے جو فوسل فیولز کی نسبت آلودگی نہ پیدا کرتی بجلی بناتی ہے، فی الوقت یورپی ملک لکسمبرگ اپنی 46 فیصد بجلی سولر پینلوں سے بنا رہا، اس کے بعد لیتھونیا 43.6 فیصد، اسٹونیا 41.9 فیصد، ہنگری 37.5 فیصد اور ہالینڈ 37 فیصد بجلی سولر سے بنانے والا ملک ہے جب کہ اس وقت دنیا میں صرف 20 ملک سولر پینلز سے 25 فیصد بجلی بناتے ہیں اور ان ممالک میں پاکستان سب سے بڑا ملک ہے۔