صحت کے شعبے میں بہتری آ رہی ہے‘میری ساری توجہ لوگوں کو مفت علاج کی فراہمی پر ہے، کلینک آن ویلز صوبے کے تمام اضلاع اور اربن ایریاز میں جانے کیلئے تیار ہیں
کلینک آن ویل پورے پنجاب میں پھیل جائیں گے‘یہ حقیقی انقلاب ہے، عوام کو صحت کی بہترین سہولتوں تک رسائی کا انقلاب ہے:لانچنگ تقریب سے خطاب
لاہور(سپیشل رپورٹر )وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے کہا ہے بڑے دعوے ہوئے مگر صحت میں عوام کی خدمت کا حقیقی کام شہباز شریف اور نواز شریف کے دور حکومت میں ہوا، صحت کے شعبے میں بہتری آ رہی ہے، میری ساری توجہ لوگوں کو مفت علاج کی فراہمی پر مرکوز ہے، کلینک آن ویلز صوبے کے تمام اضلاع اور اربن ایریاز میں جانے کیلئے تیار ہیں۔ا ن خیالات کااظہار انہوں نے کلینک آن ویل فیز ٹو لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔وزیراعلی نے کہا کہ ہر غریب کا گھر کی دہلیز پر مفت اور فوری علاج میرا خواب تھا، اپنی طاقت اور اختیار کو ہمیشہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیا ہے۔ شہباز شریف صاحب کے جانے کے بعد چار سال پنجاب کے عوام رل گئے، کینسر کے مریضوں کو مفت ادویات نہ ملنے پر سڑکوں پر آنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی کا شکر ہے کہ نہ صرف کینسر بلکہ ہیپاٹائٹس، امراض کلب، میڈیسن اور انسولین کی دو، دو ماہ کے لیے ڈوز گھروں کو پہنچا رہے ہیں۔ لوگوں کو کام چھوڑ کر، نوکری سے چھٹی لے کر علاج اور ادویات کے لیے لائنوں میں لگنا پڑتا تھا۔مریم نواز نے کہا کہ 911 کلینک آن ویل آج پورے پنجاب میں پھیل جائیں گے۔ یہ حقیقی انقلاب ہے، عوام کو صحت کی بہترین سہولتوں تک رسائی کا انقلاب ہے۔ ادویات لیکر لوگوں کے گھروں تک پہنچ رہے ہیں۔ کلینک آن ویل فیز ٹو کے بروقت آغاز پر صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر، سیکریٹری صحت نادیہ ثاقب اور پوری ٹیم کو مبارکباد دیتی ہوں۔انہوں نے کہا کہ چند ماہ پہلے 245 گاڑیوں سے شروع ہونے والے کلینک آن ویل پراجیکٹ کا شاندار عوامی فیڈ بیک آرہا ہے۔ کلینک آن ویل پر ڈاکٹر، ایل ایچ وی اور عملہ دیہات میں پہنچ کر فیلڈ اسپتال کی صورت میں کام کر رہے ہیں۔ کلینک آن ویل پر زچہ بچہ کا علاج اور چھوٹے میڈیکل پروسیجر کی سہولت بھی موجود ہے۔ کلینک آن ویل کے پہلے فیز میں گاڑی میں اے سی نہ ہونے پر دوسرے مرحلے کے لیے شاندار اے سی گاڑیاں خریدیں ہیں۔مریم نواز نے کہا کہ سرکاری اسپتال میں عام مریض کی طرح علاج کروانا بہت اچھا لگا، خود پرچی بنوا کر میو اسپتال میں علاج کروایا، ایم آر آئی اسکین ہوئی اور انجیکشن لگے۔ مجھے خوشی ہے کہ میو اسپتال میں بہترین اور شاندار آرتھوپیڈک سرجن موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے کلینک آن ویل پراجیکٹ کے ذریعے ایک کروڑ سے زائد مریضوں کا مفت اور فوری علاج کیا گیا۔ کلینک آن ویل میں بلڈ پریشر، اسکریننگ اور دیگر امراض کے علاج کی سہولت موجود ہے۔ جنوبی پنجاب میں غذائی قلت کا شکار بچوں کا کلینک آن ویل کے ذریعے فوری علاج کیا جائے گا، کلینک آن ویل گاڑیوں کا غیر ضروری استعمال روکنے کے لیے ٹریک بھی کیا جائے گا۔وزیراعلی مریم نواز کا کہنا تھا کہ فیلڈ اسٹاف اور کلینک آن ویل کے ذریعے روزانہ 45ہزار لوگوں کا مفت علاج ہو رہا ہے۔ ریاست نے خدمت کا امتحان پاس کرلیا ہے