ملک بھر میں سندھ خسرہ سے سب سے زیادہ متاثر،53اموات

 خیبرپختونخوا میں 27، پنجاب میں 15 اور بلوچستان میں 7 اموات رپورٹ ہو چکیں
 کم عمر اور غذائی قلت کے شکار بچے زیادہ متاثر ،طبی ماہرین،بروقت ویکسی نیشن پر زور
کراچی (خصوصی رپورٹ) رواں برس 2026 کے دوران ملک بھر میں خسرہ سے اموات کی تعداد 102 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ سندھ اس مرض سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ رہا ہے۔ وفاقی وزارت صحت کے ذرائع کے مطابق خسرہ سے اب تک سندھ میں 53، خیبرپختونخوا میں 27، پنجاب میں 15 اور بلوچستان میں 7 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں رواں سال خسرہ کے 11 ہزار 192 مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 2 ہزار 126 میں مرض کی تصدیق ہوئی۔ سندھ میں 7 ہزار 105 مشتبہ کیسز میں سے 2 ہزار 280، خیبرپختونخوا میں 8 ہزار 912 مشتبہ کیسز میں سے 3 ہزار 199 اور بلوچستان میں 858 مشتبہ کیسز میں سے 349 مثبت قرار دئیے گئے۔ وزارت صحت کے ذرائع کے مطابق آزاد جموں و کشمیر میں 616 مشتبہ کیسز میں سے 216 جبکہ گلگت بلتستان میں 230 مشتبہ کیسز میں سے 64 کی تصدیق ہوئی۔ اسلام آباد میں بھی رواں سال 153 مشتبہ کیسز سامنے آئے، جن میں سے 85 مریضوں میں خسرہ کی تصدیق کی گئی۔ طبی ماہرین کے مطابق خسرہ کی نمایاں علامات میں تیز بخار، جسم پر سرخ دانے، کھانسی، نزلہ اور آنکھوں میں سوزش شامل ہیں، جبکہ پانچ سال سے کم عمر اور غذائی قلت کے شکار بچے اس بیماری سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔وزارت صحت اور ماہرین نے والدین پر زور دیا ہے کہ بچوں کو حفاظتی ٹیکوں کا کورس بروقت مکمل کرایا جائے، کیونکہ ویکسی نیشن خسرہ سے بچاؤ کا مؤثر ترین ذریعہ ہے اور بروقت تشخیص و علاج سے پیچیدگیوں اور اموات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔