دودھ، دہی بھی مہنگے داموں فروخت،سبزیاں اورسبز مصالحہ جات کے نرخ بھی بڑھ گئے ، شہری نکونک

نانبائی ڈٹ گئے، نان10 ، روٹی9روپے مہنگی 
 روٹی 25 ، نان 35 کا ہوگیا،پرانی قیمت پر بیچناممکن نہیں:ایسوسی ایشن،شہری سرکاری نرخوں پر دودھ، دہی سے محروم رہے،ٹماٹر 400، پیاز 120، آلو 60، سبزمرچ 140 روپے کلو دستیاب ، بڑھتی مہنگائی نے گھریلو بجٹ تباہ کر دیا، ریلیف دیا جائے:شہری
 لاہور (کرائم رپورٹر)نان بائیوں نے ازخودروٹی 9 روپے اور نان کی قیمت میں 10 روپے اضافے کا اعلان کر دیا جس کے بعد روٹی 25 جبکہ نان 35 روپے کا ہوگیا۔نان بائی ایسوسی ایشن کے مطابق آٹے کی قیمت بڑھنے کے باعث پرانے نرخ پرروٹی اورنان کی فروخت ممکن نہیں ،آٹے کی بڑھتی قیمتوں نے قیمتیں بڑھانے پر مجبور کر دیاہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 20 کلو آٹے کا تھیلا 2400 روپے تک پہنچ چکا اس لئے پرانی قیمت پر فروخت ممکن نہیں،حکومت نے نئی قیمتیں تسلیم نہ کیں تو تندور بند کر دیں گے۔دوسری جانب شہریوں کاکہناہے کہ دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہو چکا،آئے روز بڑھتی مہنگائی نے گھریلو بجٹ تباہ کر دیا،تنخواہیں وہی ہیں مگر روزمرہ اشیائے ضروریہ مسلسل مہنگی ہو رہی ہیں،مہنگائی کے باعث سفید پوش طبقے کیلئے گھر کا خرچ چلانا دشوار ہو گیا ،حکومت آٹے کی قیمتوں میں کمی لا کر روٹی اور نان سستا کرائے۔ضلعی انتظامیہ دودھ اور دہی کی سرکاری قیمتوں پر موثر عملدرآمد کرانے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے، جس کے باعث شہری اوپن مارکیٹ سے مہنگے داموں دودھ اور دہی خریدنے پر مجبور ہیں۔مارکیٹ میں دودھ 200 سے 240 روپے فی لیٹر فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے دودھ کی سرکاری قیمت 170 روپے فی لیٹر مقرر ہے۔ اسی طرح دہی بھی سرکاری نرخوں کے برعکس 240 سے 260 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے، جس سے شہریوں کے ماہانہ اخراجات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں میں دکاندار اپنی مرضی کے نرخ وصول کر رہے ہیں اور سرکاری ریٹ لسٹ پر عملدرآمد نظر نہیں آتا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ قیمتوں کی موثر نگرانی کرے، گراں فروشی کے خلاف کارروائی عمل میں لائے اور سرکاری نرخوں پر دودھ اور دہی کی فراہمی یقینی بنائے۔دوسری جانب دکانداروں کا موٓقف ہے کہ پیداواری لاگت، چارے، ٹرانسپورٹ اور سپلائی کے اخراجات میں اضافے کے باعث سرکاری نرخوں پر دودھ اور دہی فروخت کرنا ممکن نہیں۔ تاہم انہوں نے بھی متعلقہ حکام سے اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے موٓثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔سبزیاں اورسبز مصالحہ جات کے نرخ بڑھ گئے ، انتظامیہ ریٹ لسٹ پر عملدرآمدکرانے میں ناکام ہوگئی۔ ٹماٹر کے سرکاری نرخ میں 30 روپے فی کلو اضافہ ہو گیا ہے جس سے ٹماٹر کا سرکاری نرخ 240 سے بڑھا کر 270 روپے فی کلو مقرر ہوا تو مارکیٹ میں درجہ اول ٹماٹر 350 سے 400 روپے کلو فروخت ہو رہا،درجہ دوم ٹماٹر بھی 300سے 330 روپے کلو فروخت ہو رہا،پیاز کا سرکاری نرخ 95 روپے فی کلو جبکہ مارکیٹ میں درجہ اول پیاز 120 روپے کلو تک فروخت ہو رہا ،مکس درجہِ دوم پیاز 100 روپے کلو ہے، آلو کا سرکاری نرخ 35روپے کلو اور مارکیٹ میں مکس آلو 50 روپے کلو اور درجہ اول 60 روپے کلو فروخت ہو رہا،سبز مرچ سرکاری نرخ 100جبکہ مارکیٹ میں 140 روپے فروخت ہو رہی ، شملہ مرچ کا سرکاری نرخ 10 روپے اضافے سے 320جبکہ مارکیٹ میں 400 روپے فی کلو فروخت ہو رہی،ٹینڈے کا سرکاری نرخ 130 جبکہ مارکیٹ میں 160سے 180 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہے ،لہسن ہرنائی کا سرکاری نرخ 235 روپے اور مارکیٹ میں 300 روپے کلو ہے،ادرک تھائی لینڈ کا سرکاری نرخ 365روپے جبکہ مارکیٹ میں ادرک نرخ 450روپے کلو تک ہے،پھول گوبھی کا سرکاری نرخ 120 روپے جبکہ مارکیٹ میں 150 روپے فی کلو تک ہے ،بھنڈی کا سرکاری نرخ 10 روپے اضافے سے 150 روپے کلو ہے ،مارکیٹ میں بھنڈی 180 سے 200 روپے کلو ہے ، گھیا کدو کاسرکاری نرخ 150 جبکہ مارکیٹ میں 180 روپیکلو تک فروخت ہو رہا۔ سستی سبزیوں میں کریلا 100 اور پالک 40 روپے کلو ہے۔