سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
اقبالؒ نے کبھی اندھی مخالفت یااندھی حمایت کادرس نہیں دیا۔ان کا پیغام تھا:
سبق پھرپڑھ صداقت کا،عدالت کا،شجاعت کا
لیاجائے گاتجھ سے کام دنیاکی امامت کا
یہ شعرآج پاکستان کی خارجہ پالیسی کیلئے ایک رہنمااصول بن سکتاہے۔پاکستان کی خارجہ پالیسی اگراقبالؒ کے اصولوں پراستوارہوتووہ نہ صرف مؤثرہوسکتی ہے بلکہ باوقاربھی ۔
اقبالؒ نے ہمیں سکھایاکہ خودداری،عدل،اورصداقت وہ ستون ہیں جن پرایک مضبوط قوم کھڑی ہوتی ہے۔پاکستان کوچاہیے کہ وہ اپنی سفارت کاری کومحض مفادات کے تابع نہ رکھے بلکہ اصولوں کے تابع کرے۔اس کامطلب یہ نہیں کہ قومی مفادات کونظ اندازکیاجائے،بلکہ یہ کہ انہیں اخلاقی اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ کیاجائے۔پاکستان کاکردارکسی فریق کاحمایتی بننانہیں بلکہ امن کاداعی بنناہوناچاہیے۔پاکستان کوامریکااورایران کے درمیان جنگ بندی اورتعلقات کوبہتربنانے کیلئے اقبال کی فکرکے تین بنیادی اصول سامنے رکھنے کی ضرورت ہے:
٭اول مکالمہ (Dialogue)قرآنِ حکیم فرماتا ہے:اورعہدکوپوراکرو،بے شک عہدکے بارے میں پوچھاجائے گا۔(الاسراء:۳۴)
اقبالؒ کاتصورِامت اورانسانیت ہمیں یہ سکھاتاہے کہ اختلافات کوتصادم کی بجائے مکالمے کے ذریعے حل کیاجائے۔ اقبال کی فکرمیں مکالمہ اورفکری آزادی کوبنیادی حیثیت حاصل ہے۔اختلاف کا مطلب دشمنی نہیں۔پاکستان دونوں ممالک کے درمیان ایسے سفارتی رابطوں کی حوصلہ افزائی کررہاہے جہاں اعتمادسازی کے اقدامات کیے گئے،جس کیلئے پہلااصول وعدوں کی پاسداری ہے۔دنیامیں امن صرف کاغذکے معاہدوں سے نہیں بلکہ وعدوں کی پاسداری سے قائم ہوتاہے۔اگرکسی بھی فریق کی طرف سے اعتماد شکنی ہوتواس کانقصان صرف دوممالک تک محدود نہیں رہتابلکہ پوراخطہ عدم استحکام کاشکارہوجاتاہے۔اوران معاہدوں تک پہنچنے کیلئے منصفانہ مکالمہ کی ضرورت ہے۔
٭دوم انصاف (Justice)اقبالؒ کے نزدیک امن صرف اسی وقت قائم ہوسکتاہے جب انصاف ہو۔قرآن کہتا ہے:بے شک اللہ عدل اوراحسان کاحکم دیتاہے۔ (النحل: ۹۰)
پاکستان کوہرمعاملے میں انصاف،توازن اوراصولی مقف اختیارکرنا چاہیے۔پاکستان کوایک غیرجانبدارثالث کے طورپردونوں فریقین کے مؤقف کوسمجھتے ہوئے ایک منصفانہ حل پیش کرناچاہیے،نہ کہ کسی ایک طاقت کے زیرِاثرآکر۔
٭سوم احترامِ خودمختاری (Respect for Sovereignty)تیسرا اصول انسانیت کومقدم رکھناہے۔اقبال کاپیغام جغرافیائی حدودسے بلندتھا۔وہ انسان کوبحیثیت انسان دیکھتے تھے۔وہ فرماتے ہیں:’’مذہب نہیں سکھاتاآپس میں بیررکھنا‘‘۔خودمختاری کااحترام بہت اہم ہے۔اقبال نے ہمیشہ غلامی اوربیرونی تسلط کے خلاف آوازاٹھائی۔پاکستان کوچاہیے کہ وہ ایران کی خود مختاری اورامریکاکے عالمی کرداردونوں کومدنظررکھتے ہوئے ایک متوازن حکمت عملی اختیارکرے لیکن تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ امن کے راستے کبھی آسان نہیں ہوتے۔جب بھی دنیامیں امن کی کوئی کوشش ہوتی ہے،توبعض عناصراپنے سیاسی،معاشی یا تزویراتی مفادات کے باعث اعتماد سازی کے عمل کوکمزورکرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ایسے حالات میں اصل امتحان معاہدے پردستخط کرنانہیں بلکہ اس اعتمادکوبرقراررکھناہوتاہے جس پرامن کی بنیادرکھی جاتی ہے۔
معززحاضرین!موجودہ حالات میں پاکستان کے پاس اپنے اس کردارکو بڑھانے کیلئے کئی عملی راستے موجود ہیں:
٭پہلا،سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ۔پاکستان کوچاہیے کہ وہ اسلامی تعاون تنظیم اوراقوامِ متحدہ جیسے فورمزپرفعال کرداراداکرے اور ایران-امریکا تنازع کے مستقل حل کیلئے دوبارہ ٹھوس تجاویزپیش کرے۔
٭دوسرا،اعتمادسازی کے اقدامات ہیں۔امن کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ عدم اعتمادہے۔جب ریاستیں ایک دوسرے پراعتمادکھو دیتی ہیں تومعاہدے کاغذکے ٹکڑے بن جاتے ہیں۔اس لیے پاکستان کوچاہیے کہ وہ اعتماد سازی کے اقدامات کواپنی سفارتی حکمتِ عملی کامرکزی حصہ بنائے۔یہ اعتمادصرف سرکاری سطح پرنہیں بلکہ عوامی سطح پربھی ہونا چاہیے ۔پاکستان دونوں ممالک کے درمیان اعتمادکی فضاقائم کرنے کیلئے غیررسمی ملاقاتوں،تھنک ٹینکس،اورعلمی کانفرنسزکاانعقادکرسکتاہے۔ علمی و ثقافتی تبادلے، مشترکہ تحقیقی منصوبے،اوربین الاقوامی کانفرنسزکے انعقاد میں اقبالؒ اکیڈمی اہم کرداراداکرسکتی ہے۔پاکستان کوچاہیے کہ وہ ایک’’مکالماتی کلچر‘‘کو فروغ دے ،ایسا کلچرجس میں اختلاف کو برداشت کیاجائے،سوال کودبایانہ جائے،اوردلیل کوترجیح دی جائے۔یہی وہ فضاہے جس میں امن پنپ سکتاہے۔ سوال کودبایانہ جائے،اوردلیل کوترجیح دی جائے۔یہی وہ فضاہے جس میں امن پنپ سکتاہے۔
٭تیسرا،اقتصادی تعاون ہے کیونکہ اقتصادی استحکام بھی امن کا ایک اہم جزوہے۔اقبالؒ ایک مضبوط اورخوددارمعیشت کے قائل تھے۔ پاکستان اگرخطے میں اقتصادی روابط کو فروغ دے،تویہ ممالک کوتصادم کی بجائے تعاون کی طرف راغب کرسکتاہے۔ اقبالؒ نے خودی کے ساتھ ساتھ خود کفالت پربھی زوردیا۔ ایک مضبوط معیشت نہ صرف داخلی استحکام لاتی ہے بلکہ خارجی سطح پربھی وقارعطاکرتی ہے۔پاکستان اگرعلاقائی اقتصادی تعاون کوفروغ دے، تجارتی روابط کووسعت دے،اورمشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرے تووہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ پورے خطے کیلئے امن کاراستہ ہموارکرسکتاہے۔
٭چوتھا،مذہبی اورتہذیبی ہم آہنگی کافروغ ہے۔مذہب کاکرداربھی اس ضمن میں نہایت اہم ہے۔بدقسمتی سے آج مذہب کواکثرشدت پسندی کے ساتھ جوڑاجاتاہے،حالانکہ اسلام کااصل پیغام امن،رحمت اوراعتدال ہے۔پاکستان ایک اسلامی ریاست ہونے کے ناطے ایک ایسامتوازن بیانیہ پیش کرسکتاہے جومذہب کوشدت پسندی کے بجائے امن
اوررواداری کے ساتھ جوڑتاہو،جواقبالؒ کی تعلیمات کابھی نچوڑ ہے۔اقبال ؒکی فکرمیں مذہب ایک زندہ قوت ہے جوانسان کوبیدارکرتی ہے، اسے ذمہ داری کااحساس دلاتی ہے،
اوراسے خیرکے راستے پرگامزن کرتی ہے جیسا کہ اقبالؒ نے فرمایا:
افرادکیہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہرفردہے ملت کے مقدرکاستارہ
یہ شعرہمیں یہ بتاتاہے کہ ریاستوں کاکردارافرادکے کردارسے بنتاہے۔لہذاپاکستان کے پالیسی سازوں،سفارتکاروں،اوردانشوروں کواقبال کی فکرکوعملی جامہ پہناناہوگا۔
امن کے قیام کیلئے صرف ریاستی سطح پر اقدامات کافی نہیں ہوتے بلکہ فکری وتہذیبی سطح پربھی کام کرناضروری ہوتاہے۔پاکستان اس حوالے سے ایک منفردمقام رکھتاہے۔اس کی تہذیب،اس کی زبان،اس کاادبی ورثہ سب امن،محبت اوررواداری کاپیغام دیتے ہیں۔اقبالؒ کی شاعری خودایک سفارتی قوت ہے۔ان کے اشعاردلوں کونرم کرتے ہیں،ذہنوں کوروشن کرتے ہیں،اورانسان کواس کی اصل پہچان دلاتے ہیں۔ آج کی دنیامیں’’ہارڈ پاور‘‘یعنی فوجی طاقت کی بجائے’’سافٹ پاور‘‘یعنی سفارت،ثقافت،اورنظریہ زیادہ اہمیت اختیارکرچکاہے۔اگرپاکستان اقبالؒ کے فلسفہ کواپنی خارجہ پالیسی کاحصہ بنالے اوراس ادبی وفکری ورثے کواپنی سافٹ پاورکے طورپراستعمال کرے تووہ دنیامیں نہ صرف ایک مثبت تاثر قائم کرسکتاہے بلکہ ایک امن کے سفیرکے طورپرابھرسکتاہے۔
خواتین وحضرات!امریکااورایران کے درمیان مصالحت کیلئے پاکستان درج ذیل اقدامات کرسکتاہے:
غیرجانبدارثالثی کی پیشکش،دونوں ممالک کے درمیان خفیہ مذاکرات کی میزبانی،مشترکہ اقتصادی منصوبوں کی تجویز،علاقائی امن کانفرنس کا انعقاد۔
اس حوالے سے پاکستان کے تمام اقدامات اقبال کے تصورِانسانیت کی وحدت کے عین مطابق ہیں۔
محترم حاضرین!دنیااس وقت ایک نازک دورسے گزررہی ہے۔ایک غلط فیصلہ،ایک غلط فہمی یاایک غیرذمہ دارانہ اقدام بڑے بحران کوجنم دے سکتا ہے۔ایسے وقت میں پاکستان کواقبال کے اس پیغام کواپنارہنمابناناچاہیے:
یقیں محکم،عمل پیہم،محبت فاتحِ عالم
جہادِزندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
یقین،مسلسل عمل اورانسانیت سے محبت ہی وہ طاقتیں ہیں جودنیا کوتباہی سے بچاسکتی ہیں۔آج کی دنیامیں طاقت کی نوعیت بدل چکی ہے اب صرف عسکری قوت کافی نہیں بلکہ فکری، ثقافتی او سفارتی قوت بھی اہم ہوچکی ہے۔ پاکستان اگران تمام جہات میں توازن پیدا کرے تووہ ایک مؤثرعالمی کردارادا کرسکتاہے۔
آخر میں یہ عرض کرنا چاہوں گاکہ اقبال ؒکی فکرمحض کتابوں تک محدودنہیں بلکہ ایک عملی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔فکرِ اقبالؒ ہمارے لیے محض ایک ادبی ورثہ نہیں بلکہ ایک عملی رہنمائی ہے ۔ اگرہم اس فکرکواپنی پالیسیوں،اپنے اداروں،اوراپنی اجتماعی زندگی میں شامل کرلیں توہم نہ صرف اپنے مسائل حل کرسکتے ہیں بلکہ دنیا کیلئے بھی ایک مثال بن سکتے ہیں۔اگر پاکستان ان اصولوں کواپنائے تونہ صرف وہ اپنے اندراستحکام لاسکتاہے بلکہ عالمی امن میں بھی ایک کلیدی کرداراداکرسکتاہے۔
دعاہے کہ اللہ تعالی پاکستان کوامن،عدل اورخیرکاعلمبرداربنائے،اللہ ہمیں اقبال ؒکے افکارکوسمجھنے اوران پرعمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اوردنیاکے تمام ممالک کوتنازعات کی بجائے مکالمے،جنگ کی بجائے امن اورنفرت کی بجائے انسانیت کاراستہ اختیارکرنے کی توفیق عطافرمائے۔اس پرعمل کرنے،اوراسے دنیاتک پہنچانے کی توفیق عطافرمائے۔ اللہ پاکستان کوامن،عدل اورانسانیت کاعلمبردار بنائے۔اللھم آمین یارب العالمین
وما علینا الا البلاغ۔
بہت شکریہ۔
اقبال اکیڈمی لاہورمیں 14جولائی2026 کوسیمینارسے خطاب