چین نے اپنے شہریوں کو افغانستان–تاجکستان سرحدی علاقوں میں غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت دی ہے اور فوری حفاظتی اقدامات اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔
چینی سفارتخانے نے کہا کہ تاجکستان یا سرحدی علاقوں میں موجود شہری بروقت اور محفوظ انداز میں ان علاقوں کو ترک کریں اور مقامی سکیورٹی صورتحال پر مسلسل نظر رکھیں۔یہ ایڈوائزری ایسے وقت جاری ہوئی ہے جب تاجک بارڈر فورسز نے افغانستان سے دراندازی کی کوشش کرنے والے چار دہشت گردوں کو ہلاک کیا، اور سرحدی علاقوں میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔اسی دوران، کابل میں دھماکے کے نتیجے میں ایک چینی شہری سمیت سات افراد ہلاک اور 13 زخمی ہوئے، جس سے خطے میں چینی شہریوں کی سلامتی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔سکیورٹی ماہرین کے مطابق، افغانستان سے دہشت گردوں کی سرحد پار سرگرمیاں نہ صرف تاجکستان بلکہ پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی سنگین چیلنج بنتی جا رہی ہیں، اور موجودہ کشیدگی علاقائی سلامتی کے لیے سوالیہ نشان بن گئی ہے۔