کولکتہ میں 31 سالہ ٹرینی ڈاکٹر کے ساتھ زیادتی اور وحشیانہ قتل کے کیس میں بھارتی عدالت نے ملزم سنجے رائے کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔
اس فیصلے کو 20 جنوری 2025 کو سنایا گیا، جبکہ 18 جنوری کو عدالت نے اسے مجرم قرار دیا تھا۔سنجے رائے پر الزام تھا کہ اس نے کولکتہ کے آر جی کار میڈیکل کالج اسپتال میں 9 اگست 2024 کو 31 سالہ ڈاکٹر کے ساتھ زیادتی کی اور اسے وحشیانہ طور پر قتل کر دیا۔ خاتون ڈاکٹر اسپتال کے سیمینار ہال میں مردہ پائی گئی تھی، جس کے چہرے پر شدید زخم تھے۔ اس واقعہ نے پورے بھارت میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی اور تحقیقات میں تیزی لائی گئی تھی۔سی بی آئی نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ملزم کو سزائے موت دی جائے، مگر عدالت نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم پر لگائے گئے الزامات کی بنیاد پر پیش کیے گئے ثبوتوں سے اس کا جرم ثابت ہوتا ہے۔
سنجے رائے نے عدالت میں اپنے جرم کا انکار کیا اور کہا کہ وہ بے گناہ ہے، اس پر زور زبردستی دستخط کرائے گئے تھے۔ تاہم، عدالت نے اس کی استدعا کو تسلیم نہیں کیا اور اسے مجرم قرار دے کر عمر قید کی سزا دی۔یہ کیس اس وقت سامنے آیا تھا جب کولکتہ کے اسپتال میں تعینات 31 سالہ خاتون ڈاکٹر کی لاش سیمینار ہال سے ملی، جس میں زیادتی اور تشویش ناک جسمانی تشدد کے آثار تھے۔ اس سنگین قتل نے نہ صرف طبی اداروں کو بلکہ پورے بھارت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔