اقوام متحدہ نے اسرائیل کے نئے قانون پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے جس کے تحت 12 سال سے کم عمر بچوں کو بھی عمر قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ماہرین نے کہا ہے کہ نومبر 2024 میں اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) نے انسداد دہشتگردی قانون میں ایسی ترمیم کی ہے جس کے تحت 12 سال کے بچوں کو دہشتگردی سے متعلق جرم میں ملوث ہونے پر عمر قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ماہرین نے اس قانون کو اقوام متحدہ کے بچوں کے حقوق کے کنونشن کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں پہلے ہی فلسطینی بچوں کے خلاف سخت فوجی قوانین نافذ ہیں اور یہ قانون بچوں کے حقوق کی پامالی کو مزید بڑھا دے گا۔
اقوام متحدہ نے اسرائیل سے اپیل کی ہے کہ وہ بچوں کے حقوق کا احترام کرے اور اس قانون پر نظرِ ثانی کرے تاکہ بچوں کو امتیازی سلوک اور غیر انسانی سزاؤں سے بچایا جا سکے۔مزید برآں، نئے قانون کے تحت بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے مالی امداد بھی معطل کی جا سکتی ہے اگر بچے پر دہشتگردی کے الزامات ہوں، جسے بھی ماہرین نے تشویشناک قرار دیا ہے۔