رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی گوشت کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ نے عوام کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، گوشت کی فی کلو قیمتوں میں 20 سے 50 روپے کے معمولی اضافے کے بجائے، ایک دم 150 سے 200 روپے تک کا اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے قیمتیں عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہو گئی ہیں۔بکرے کے گوشت کی قیمت رمضان سے قبل تقریباً 2200 روپے فی کلو تھی، لیکن اب یہ قیمت 2400 سے 2500 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ اسی طرح بڑے کا گوشت، جو پہلے تقریباً 1300 روپے فی کلو تھا، اب 1500 روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔ضلع انتظامیہ نے قیمتوں پر قابو پانے کے لیے بکرے کے گوشت کی قیمت 2000 روپے فی کلو، بڑے کا گوشت ہڈی سمیت 1050 روپے، اور بغیر ہڈی کے 1200 روپے فی کلو مقرر کیے ہیں۔ تاہم، دکانداروں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخوں پر عمل درآمد سے انہیں نقصان ہوتا ہے، کیونکہ وہ گرانفروشی سے بچنے کے لیے قیمتیں بڑھاتے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو گرانفروشی روکنے کے لیے سخت اور ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں، کیونکہ موجودہ صورت حال میں وہ رمضان بھر لوٹ مار کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعلانات اور دعووں کے برعکس، سرکاری نرخ نامے پر عمل در آمد کھلے عام نظر نہیں آ رہا، اور شہری گرانفروشی کے رحم و کرم پر ہیں۔ یہ صورتحال عوامی سطح پر تشویش کا سبب بنی ہوئی ہے، اور حکام کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔